مکہ۔سعودی عرب میں اس سال محدود حج خدمات کی کامیابی سے اختتام پذیر ہونے پر مملکت کے 8 شہروں سے آنے والے حجاج کو جدہ ایر پورٹ سے ان کے شہروں کو روانہ کردیا گیا ہے۔ححاج واپسی کے بعد اپنے گھروں میں 14 دن تک قرنطینہ میں رہیں گے۔میڈیا کے مطابق وزارت حج وعمرہ کے سیکریٹری ڈاکٹرحسین الشریف نے کہا کہ حج خدمات کا ہر سطح سے جائزہ لیا جارہا ہے جو ایک روٹین کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہربرس حج کے اختتام کے ساتھ ہی حج خدمات کے تمام پہلوں پر غورکرکے جامع رپورٹ تیار کی جاتی ہے جس کی روشنی میں آئندہ برس کیلیے تیاریاں شروع کی جاتی ہیں۔ڈاکٹر الشریف نے عمرہ کے حوالے سے کہا کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ عمرہ کے بارے میں بھی معاملہ زیر غور ہے۔جدہ کے شاہ عبدالعزیز ایر پورٹ کے ڈائریکٹر عصام فواد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی اعلی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات پرعمل کرتے ہوئے حجاج کو تمام مقررہ سہولتیں فراہم کی گئیں۔حجاج ا?مد سے لیکر روانگی تک کے تمام معاملات مقررہ شیڈول کے مطابق انجام دیے گئے تاکہ حجاج کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس سال مملکت کے آٹھ شہروں ریاض، مدینہ منورہ، الوجہ، دمام، قصیم، ابھا، جیزان اور تبوک سے عازمین حج کو سعودیہ ایر کی اندرون ملک پروازوں کے ذریعہ جدہ لایا گیا۔ حجاج کی آمد و روانگی کے لیے 25 پروازیں مخصوص تھیں جن کے ذریعہ مذکورہ شہروں سے حجاج کرام کو جدہ لایا اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد واپس لے جایا گیا۔ حجاج کی واپسی مقررہ شیڈول کے مطابق کی گئی جس کی براہ راست نگرانی حج کمیٹی کے نگران اعلی گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل کررہے تھے۔ واضح رہے وزارت حج کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر انتہائی محدود پیمانے پر عازمین حج کا انتخاب کیا گیا تھا جس میں 70 فیصد مملکت میں مقیم غیر ملکی جبکہ 30 فیصد وہ سعودی شہری شامل تھے جو کورونا وائرس کی وجہ سے ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کورونا کا شکار ہوئے اور صحتیابی کے بعد انہیں وزارت حج کے مہمان کے طور پر امسال فریضہ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس سال محدود حج خدمات کے تمام انتظامات مثالی رہے جن کے تحت عازمین کی آمد سے لے کر روانگی تک ہر مرحلہ پر وزارت صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے حجاج کی صحت اور دیگر امور کی نگرانی کی جاتی رہی۔وزارت صحت نے کہا ہے کہ کسی حاجی میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
