20 گھنٹے صبر آزما انتظار، ٹائلٹس اور صحت و صفائی کے ناقص انتظامات، ضعیف اور خاتون عازمین سردی سے پریشان
حیدرآباد۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) حج کیمپ نامپلی اور حج ٹرمنل میں عازمین حج کو کئی ایک دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عازمین حج کے قافلوں کی روانگی کے سلسلہ میں ایر انڈیا فلائیٹس کا جو شیڈول تیار کیا گیا ہے ، اس کے مطابق ایک دن میں تین تا چار قافلوں کی روانگی کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں بیک وقت عازمین حج کی بڑی تعداد حج ہاؤز پہنچ رہی ہے اور حکام ان تمام سے نمٹنے میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے علاوہ والینٹرس کو خدمات پر مامور کیا گیا لیکن گزشتہ دو دنوں سے عازمین کے مسائل میں اضافہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ کئی عازمین حج نے شکایت کی کہ انہیں 24 گھنٹے قبل حج ہاؤز رپورٹنگ کی ہدایت دی گئی اور وہ احرام کی حالت میں ہاؤز میں 24 گھنٹے قیام پر مجبور ہیں۔ احرام کی حالت میں وہ کئی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر سے تعلق رکھنے والے عازمین کو بھی 20 تا 24 گھنٹے قبل رپورٹنگ کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ پاسپورٹ کاؤنٹر فلائیٹ کی روانگی سے 6 گھنٹے قبل کھلتا ہے۔ آن لائین بکنگ کرنے کے باوجود شہر کے عازمین حج کو 24 گھنٹے طلب کرنے پر عازمین حج میں بے چینی دیکھی گئی۔ کئی عازمین حج نے شکایت کی کہ حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا جارہا ہے۔ سابق میں آن لائین بکنگ کرنے والے عازمین کو 8 گھنٹے قبل رپورٹنگ کی ہدایت دی جاتی تھی۔ اضلاع سے تعلق رکھنے والے عازمین کی رپورٹنگ کی صورت میں ان کے قیام اور طعام کا انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔ بیک وقت 3 تا 4 فلائیٹس کے سبب حج ہاؤز میں 1200 سے زائد عازمین حج کی سہولتوں کا خیال رکھنا ممکن نہیں ہے۔ آج سہ پہر روانہ ہوئی فلائیٹ کے عازمین نے شکایت کی کہ حج ہاؤز میں طویل انتظار کی طرح حج ٹرمنل میں بھی انہیں فلائیٹس سے کئی گھنٹے قبل منتقل کردیا گیا اور فلائیٹ کی روانگی سے عین قبل لنچ دیا گیا۔ لنچ کی تکمیل کے دوران ہی انہیں فلائیٹ میں سوار ہونے کی ہدایت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ٹرمنل میں عازمین حج کی رہنمائی اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حج ہاؤز کی عمارت میں تقریباً 500 عازمین کے قیام کی گنجائش ہے۔ باقی عازمین کو زیر تعمیر عمارت میں رکھا گیا ہے اور بارش اور سردی کے سبب عازمین بطور خاص ضعیف افراد کو خرابیٔ صحت کا خطرہ لاحق ہے ۔ دوسری طرف حج کیمپ میں صحت و صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔ مینٹننس کا کام ٹنڈر پر الاٹ کیا گیا لیکن صرف فلائیٹ کے وقت کسی قدر صفائی دیکھی جاتی ہے اور وہ بھی بلدیہ کے حکام کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ پانی اور کچرے کے سبب مچھروں کی افزائش ہورہی ہے جس سے بیماریوں کا اندیشہ ہے۔ حج ہاؤز میں واقع ٹائلیٹس میں صفائی اور پانی کا مناسب انتظام نہیں ہے ۔ حج ہاؤز کے کھلے حصہ میں موجود ٹائلٹس کو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن کئی ٹائلٹس کو دروازے نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں پانی کا انتظام ہے۔ ایرکنڈیشنڈ ہال کے سبب عازمین حج کیلئے ایمرجنسی اگزٹ کا انتظام نہیں رکھا گیا جس کے نتیجہ میں خاتون عازمین کو حوائج ضروریہ کیلئے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ عازمین حج کو وداع کرنے کیلئے پہونچنے والے رشتہ داروں اور دوست احباب میں والینٹرس کی جانب سے بد زبانی کرنے کی شکایت کی ہے۔ پاسس رکھنے کے باوجود حج ہاؤز کے احاطہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد مختلف ناموں سے شناختی کارڈ لگائے ہوئے حج ہاؤز کے احاطہ میں گھوم ر ہے ہیں جن کا کام صرف اہم شخصیتوں کے ساتھ تصویر کشی کرنے کے سواء کچھ نہیں۔ زیر تعمیر عمارت کے سیلر میں پانی کی عدم نکاسی کے سبب گندہ پانی جمع ہے جس سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہے۔ رات کے اوقات میں عازمین حج کے آرام میں خلل کی شکایت ملی ہے ۔ عازمین حج نے کہا کہ جس طرح پہلے قافلہ کی روانگی کے موقع پر اہم شخصیتیں موجود رہتی ہیں ، اسی طرح روزانہ حج کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے عازمین حج کے مسائل کا جائزہ لینا چاہئے۔