مرکز سے حج کمیٹی آف انڈیا کی نمائندگی،وزارت فینانس سے عنقریب مثبت رد عمل کی اُمید
حیدرآباد۔ حج 2019 کے حجاج کرام کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی شرط سے استثنیٰ کے سلسلہ میں مرکزی وزارت فینانس سے نمائندگی کی گئی ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر ڈاکٹر مقصود احمد خاں نے بتایا کہ 31 ڈسمبر اگرچہ انکم ٹیکس ریٹرن کے ادخال کی آخری تاریخ ہے لیکن محکمہ فینانس کے رویہ سے حجاج کرام میں اُلجھن پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر حجاج کرام کو انکم ٹیکس ریٹرن کے ادخال سے استثنیٰ حاصل رہتا ہے اور حج کمیٹی آف انڈیا کو یقین ہے کہ 2019 کے حجاج کرام کو انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے فینانس قانون کے تحت ایسے تمام بیرونی سفر جن پر 2 لاکھ روپئے سے زائد کا خرچ آتا ہے انہیں انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قانون میں اگرچہ مذہبی مقامات کے دورے سے متعلق کوئی وضاحت نہیں ہے لہذا حج کمیٹی آف انڈیا نے محکمہ فینانس اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حاجی اپنے طور پر انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرتے ہیں تو یہ اُن کا اپنا اختیار ہوگا۔ سنٹرل حج کمیٹی نے اس مسئلہ پر کوئی رہنمائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت فینانس سے جواب ملنے کے بعد ہی سنٹرل حج کمیٹی اس بارے میں کچھ کہہ پائے گی۔ مقصود احمد خاں نے کہا کہ حجاج کرام کیلئے ہمیشہ انکم ٹیکس سے استثنیٰ رہا ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ حجاج کرام کو ریٹرن کے ادخال کیلئے اصرار نہیں کرے گا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی توجہ دہانی پر مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے وزارت فینانس کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ مقصود احمد خاں نے کہا کہ ہم یہ سمجھ کر چل رہے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح حجاج کرام کو استثنیٰ رہے گا۔ حجاج کرام کی اکثریت غریب و متوسط خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ان میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حجاج بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس انکم ٹیکس ریٹرن کا کوئی تصور نہیں ہے وہ اپنی جمع پونجی کو حج کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ مقصود احمد خاں نے کہا کہ 2019 کے حجاج کرام کیلئے استثنیٰ اور پھر آئندہ بھی مستقل طور پر حجاج کرام کیلئے استثنائی احکامات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے حجاج کرام سے کہا کہ وہ اُلجھن کا شکار نہ ہوں اور حج کمیٹی کے احکامات کا انتظار کریں۔ نئے قانون کے تحت چالان کے بغیر 31 ڈسمبر تک انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیا جانا چاہیئے جبکہ اس کے بعد ادخال کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
