حج 2020 ء کیلئے آن لائین درخواستوں کا آج سے آغاز

,

   

محمود علی حج ہاؤز میں افتتاح کریں گے، عوام کی سہولت کیلئے خصوصی کاؤنٹرس
حیدرآباد۔9۔ اکٹوبر ( سیاست نیوز) حج 2020 ء کے لئے آن لائین درخواستوں کے ادخال کا ملک بھر میں کل 10 اکتوبر کو آغاز ہورہا ہے ۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش حج کمیٹیوں نے آن لائین درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں درخواست گزاروں کی سہولت کیلئے خصوصی کاؤنٹرس کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی جمعرات کو 3 بجے سہ پہر حج ہاؤز نامپلی میں حج درخواستوں کی آن لائین سرویس کا افتتاح انجام دیں گے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور مہمان خصوصی ہوں گے ۔ تلنگانہ حج کمیٹی گزشتہ سال کی طرح درخواست گزاروںکی سہولت کیلئے کمپیوٹرس کے ساتھ خصوصی کاؤنٹرس قائم کرے گی جہاں درخواستوں کے آن لائین ادخال کی مفت سہولت حاصل رہے گی۔ ایسے درخواست گزار جو اپنے طور پر فارم آن لائن پُر نہیں کرسکتے ، وہ حج کمیٹی کی اس سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے گزشتہ سال سے آن لائین درخواستوں کو لازمی قرار دیا ہے ۔ جاریہ سال حج سے متعلق تمام خدمات کو ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور عازمین حج کو ای ویزا کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ آن لائین درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 10 نومبر مقررکی گئی ہے۔ اسی دوران تلنگانہ حج کمیٹی کا اجلاس صدرنشین محمد مسیح اللہ خاں کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم ، اگزیکیٹیو آفیسر بی شفیع اللہ آئی ایف ایس اور ارکان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں آن لائین درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں خصوصی کاؤنٹرس کے قیام اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا ۔

بتایا جاتا ہے کہ حج 2019 ء میں خادم الحجاج سے متعلق حجاج کرام کی شکایتوں کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کا یہ احساس تھا کہ بعض خادم الحجاج کے رہائشی مقام کو اچانک تبدیل کئے جانے سے دشواریاں پیش آئیں۔ اجلاس میں ارکان کو حج کمیٹی آف انڈیا سے جی ایس ٹی اور دیگر امور کے سلسلہ میں کی گئی نمائندگیوں کی تفصیلات سے واقف کرایا گیا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے اجلاس میں صدرنشین اور اگزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے کئی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ آن لائین سرویس کی افتتاحی تقریب میں مقامی عوامی نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے ۔ اسی دوران شہر کے ایک حاجی صاحب نے حج ہاوز پہنچ کر خادم الحجاج کی شکایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حیدرآبادی رباط میں مقیم تھے جہاں بہتر سہولتیں فراہم کی گئی تھیں لیکن مدینہ منورہ میں بنیادی سہولتوں سے عاری عمارت میں قیام پر مجبور ہونا پڑا ۔ انہوں نے شکایت کی کہ عمارت میں پینے کیلئے پانی فراہم نہیں کیا گیا اور وہ خریدنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے شکایت کی کہ خادم الحجاج نے مدینہ منورہ میں حجاج کرام سے ربط قائم نہیں کیا اور نہ ہی مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔