حج 2021 کیلئے سعودی عرب نئی شرائط، 18 تا 65 سال عمر کی حد مقرر

   

70 سال کا محفوظ کوٹہ ختم، اخراجات میں غیر معمولی اضافہ، امبارگیشن پوائنٹس کی تعداد 10 کردی گئی

حیدرآباد۔ حکومت سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پیش نظر عمرہ اور حج کے سلسلہ میں کئی پابندیاں عائد کی ہیں اور تمام ممالک کو ان پابندیوں پر عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔ حج 2021 کے سلسلہ میں سعودی عرب کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق وزارت اقلیتی اُمور حکومت ہند نے حج ایکشن پلان میں کئی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ سال حج کیلئے کوویڈ قواعد پر نہ صرف سختی سے عمل کیا جائے گا بلکہ عازمین حج کیلئے عمر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ 18 تا 65 سال عمر کے افراد حج 2021 کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ 18 سال سے کم عمر اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے حج کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس مرتبہ کمسن بچوں کی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور 70 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے محفوظ کوٹہ نہیں رہے گا۔ ہر سال ستر سال سے زائد عمر کے درخواست گذاروں کو قرعہ اندازی کے بغیر منتخب کیا جاتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ کورونا سے بچوں اور ضعیف العمر افراد کے متاثر ہونے کے اندیشہ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزارت اقلیتی اُمور کے حج ایکشن پلان میں ملک میں عازمین حج کی روانگی کے امبارگیشن پوائنٹس کی تعداد میں کمی کردی گئی ہے۔ ملک میں 21 امبارگیشن پوائنٹس تھے جنہیں گھٹا کر صرف 10 کردیا گیا ہے۔ احمد آباد، بنگلور، کوچین، دہلی، گوہاٹی، حیدرآباد، کولکتہ، لکھنؤ، ممبئی اور سرینگر سے عازمین حج کی روانگی عمل میں آئے گی۔ قریبی امبارگیشن پوائنٹ کے انتخاب کے سلسلہ میں عازمین حج کو کوئی سہولت حاصل نہیں رہے گی۔ ہر کور میں صرف 3 افراد کی درخواست قبول کی جائے گی۔ سابق میں ہر کور میں 5 افراد کو شامل کیا جاسکتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے سلسلہ میں کوویڈ قواعد کے مطابق انتظامات کئے جارہے ہیں لہذا ہر کور میں صرف تین افراد کی اجازت رہے گی۔ بغیر مَحرم کے حج کرنے والی خواتین کے گروپ کی تعداد کو گھٹا کر3 کردیا گیا۔ سعودی عرب میں قیام 30 تا 35 دن رہے گا جبکہ سابق میں یہ 40 تا 42 دن ہوا کرتا تھا۔ قیام کی مدت کے کم ہونے کے باعث روانگی کے وقت عازمین حج کو 2100 ریال کے بجائے 1500 ریال دیئے جائیں گے۔ این آر آئیز کیلئے حج 2021کی گنجائش نہیں رہے گی کیونکہ این آر آئیز کیلئے کورنٹائن کی شرائط ہر ملک میں علحدہ ہے۔ نئے قواعد کے مطابق منتخب عازمین حج کو پہلی قسط کے طور پر ایک لاکھ 50 ہزار روپئے ادا کرنے ہوں گے تاحال یہ رقم 81 ہزار روپئے تھی۔ حج کے مصارف 3 لاکھ 75 ہزار روپئے تک ہوسکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں صرف عزیزیہ زمرہ کے تحت قیام کی سہولت رہے گی۔ گرین زمرہ کو شامل نہیں رکھا گیا ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کے احکامات کے مطابق رہنمایانہ خطوط میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی جاسکتی ہے۔حج درخواستوں کے آن لائن ادخال کا آغاز ہوچکا ہے اور 12 ڈسمبر آخری تاریخ ہوگی۔ جنوری میں قرعہ اندازی کا منصوبہ ہے تاکہ ملک بھر کے عازمین حج کا انتخاب کیا جاسکے اس وقت تک سعودی عرب کی جانب سے ہندوستان کیلئے حج کوٹہ کا اعلان کیا جائے گا۔