حج 2022 کے لیے درخواستیں 2020 اور 2021 کی درخواستوں کو قبول کرنے کی ضرورت

   

حیدرآباد۔26 اکٹوبر(سیاست نیوز) حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے حج 2020 اور حج 2021 کے لئے وصول کی گئی درخواستوں کو حج 2022 کے دوران قابل قبول تصور کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران درخواست فارم اور فیس داخل کرنے والوں کو اس مرتبہ درخواست داخل کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے جو درخواستیں وصول کی گئی تھیں اور فارم کے ادخال کے ساتھ جو فیس ادا کی گئی تھی اس کے مطابق ان درخواست گذاروں کو حج 2022 کی درخواستوں میں شامل کرنے کے سلسلہ میں فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ ان دو برسوں کے دوران جو درخواستیں وصول کی گئی تھیں ان درخواستوں کے ساتھ درخواست کے ادخال کی فیس 300 روپئے وصول کی گئی تھی جو کہ واپس ادا نہیں کی گئی ہے۔ حج 2020اور حج2021کے دوران وصول کی گئی درخواستوں میں بیشتر ایسے درخواست گذار حج 2022 کے دوران حج بیت اللہ کی ادائیگی کے لئے تیار ہیں لیکن انہیں دوبارہ درخواست داخل کرنے کی زحمت سے بچائے رکھنا حج کمیٹی آف انڈیا کی ذمہ داری ہے کیونکہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے سبب ملتوی ہونے والے تمام امور کو زیر التواء تصور کرتے ہوئے ان درخواستوں کو جو کورونا وائرس سے قبل داخل کی گئی تھی قابل قبول قرار دیتے ہوئے ان کی یکسوئی کے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن اب حج کمیٹی آف انڈیا جو کہ حج 2022کی تیاریوں کا جائزہ لینا شروع کرچکی ہے گذشتہ برسوں کی درخواستوں کی یکسوئی کے بجائے نئی درخواستوں کی وصولی کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے ۔ حج 2020اورحج2021کے لئے وصول کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے بجائے ان درخواست گذاروں کو دوبارہ درخواست داخل کرنے کے لئے کہنا مناسب نہیں ہے لیکن ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان برسوں کے دوران محرم کے بغیر روانہ ہونے والی خواتین درخواست گذاروں کی درخواستوں کو زیر التواء درخواستیں تصورکرنے اور مابقی نئی درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ حج درخواستوں کی وصولی کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ مرکزی حکومت اور حج کمیٹی آف انڈیا گذشتہ دو برسوںکے دوران وصول کی گئی درخواستوں کو بھی شامل قرعہ کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ درخواست گذاروں کو اس بات کا اطمینان رہے کہ انہیں دوبارہ درخواست داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔م