اگرتلا،14جنوری(سیاست ڈاٹ کام)تریپورہ حکومت نے ایک زیرسماعت قیدی کی پولیس حراست میں موت کے معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں اور انسانی حقوق تنظیموں کے دباؤ کے درمیان پولیس سپرنٹنڈنٹ(سائبرکرائم)شرمشٹھا چکرورتی کا ٹرانسفر کردیا ہے اور دو پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے ۔ریاستی حکومت نے گھروالوں کو تین لاکھ روپے کی مدد کابھی اعلان کیاہے ۔گھروالوں نے الزام لگایا ہے کہ اے ٹی ایم کلوننگ کے معاملے میں حراست میں لئے گئے 38سال سشانت گھوش کی 12جنوری کو پولیس حراست میں ہوئی موت کے لئے محترمہ چکرورتی ذمہ دار ہیں۔سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے پولیس حراست میں سشانت کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج سے جانچ کا مطالبہ کیاہے ۔ریاستی حکومت کے اس معاملے کو عدالتی جانچ دینے کے بعد چپ بیٹھنے پر ریاست میں اشتعال ہے ۔سابق وزیراعلی مانک سرکار نے شدید چوٹ کے نشان والی سشانت کی تصویر دیکھنے کے بعد پولیس کے رول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا،‘‘یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ زیر سماعت قیدی پولیس کی حراست میں خودکشی کرلیتا ہے ۔حالات بھی پولیس کے دعوے کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔چونکہ،پولیس پر الزام لگ رہے ہیں ،ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی منصفانہ جانچ کو یقینی بنائے ۔’’سشانت کے جسم کے اوپری حصے میں چوٹ کے شدید نشان دکھائی دے رہے ہیں۔اس کے گھروالوں نے دہرایا ہے کہ پولیس نے اصلی مجرمین کو بچانے کے لئے سشانت کو پھنسایا تھا۔