حریف فلسطینی گروپوں کے مابین مفاہمتی معاہدہ پر دستخط

,

   

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 15 سال سے جاری اختلافات کی یکسوئی کے امکانات روشن

یروشلم: الجزائر حکومت کی ثالثی میں الجزائر میں فلسطینی گروپوں کی ہونے والی میٹنگ میں ایک مفاہمتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئے انتخابات کے ذریعہ 15 برس سے جاری اختلافات کو حل کرنا ہے۔جمعرات کے روز حماس، فتح اور دیگر 12 فلسطینی گروپ ایک برس کے اندر صدارتی اور قانون ساز کونسل کے لیے انتخابات کرانے پر متفق ہو گئے۔ اس معاہدے پر فتح کے سینیئر رہنما عزام الاحمد، حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اور پاپولر فرنٹ فاردی لبریشن آف فلسطین کے سکریٹری جنرل طلال ناجی نے دستخط کیے۔الجزائرکی میزبانی میں ہونے والے اس مذاکرات کے لیے صدرعبدالمجید تبون کا شکریہ ادا کرنے سے قبل اسماعیل ہانیہ نے کہاکہ ’’یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جس کے ذریعہ ہمیں یروشلم نظر آرہا ہے’’۔فتح کے رہنما عزام الاحمد کا کہنا تھاکہ ہمیں اس وقت صدر عبدالمجید تبون کی سرپرستی میں اس معاہدے پر دستخط کرنے اور اس (سیاسی) اختلاف اور فلسطینی جسم میں داخل ہو جانے والے کینسر سے نجات حاصل کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہاکہ فتح گروپ کی جانب سے ہم اس معاہدہ پر عملدرآمد کرنے والے پہلی تنظیم بننے کا عہد کرتے ہیں۔فلسطین کا مستقبل، الفتح اور حماس کے درمیان مفاہمتی کوششیںجن دیگر اہم فلسطینی شخصیات کو دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا ان میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے سینئر رہنما احمد مجدلانی، فلسطین نیشنل انیشی ایٹیو کے سکریٹری جنرل مصطفی برغوتی اور فلسطین پیپلز پارٹی کے سکریٹری جنرل بسام الصالحی شامل تھے۔الجزائز میں اگلے ماہ ہونے والے عرب سربراہی اجلاس سے قبل فلسطین کے صدر محمود عباس کی فتح تحریک اور غزہ پٹی پر حکومت کرنے والے گروہ حماس سمیت 14 فلسطینی گروپوں کے درمیان دو روز تک چلنے والی بات چیت کے بعد اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم کے مطابق اس معاہدے میں متحدہ حکومت کی تشکیل کی کوئی بات شامل نہیں ہے البتہ اس میں پی ایل او کے ڈھانچے کو تیار کرنے، اس کی قومی کونسل اور قانون ساز کونسل کی تشکیل اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے متعلق شقیں شامل ہیں۔تاہم فلسطینی علاقوں میں یہ شبہات بہر حال برقرار ہیں کہ چونکہ انتخابات کے سابقہ وعدے پورے نہیں ہوئے تھے تو کیا اب ٹھوس تبدیلیاں ہوسکیں گی۔معاہدے کے تحت فریقین نے ایک برس کے اندر’’یروشلم سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں قانون ساز کونسل اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے عمل کو تیز کرنے‘‘ کا وعدہ کیا ہے۔اس معاہدے میں پی ایل او کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، جس کے سربراہ محمود عباس کو فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔