17 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام، صنعتی فضلہ اور سیوریج سے نمٹنے کے اقدامات
حیدرآباد۔ شہر میں آبی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے موسی ندی پر 17 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت حسین ساگر میں کیمیائی فضلہ اور صنعتی اداروں کے آلودہ پانی کے بہاؤ کو روکنے کے علاوہ موسی ندی میں ڈرینج کے پانی کے بجائے ٹریٹمنٹ کے بعد صاف ستھرے پانی کے بہاؤ کو یقینی بنایا جائے گا۔ کوکٹ پلی نالہ آبگیر علاقہ میں 376.5 ملین لیٹر روزانہ ٹریٹمنٹ کی گنجائش کے ساتھ 17 ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کئے جائیں گے۔ حسین ساگر ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے تحت اس منصوبہ پر عمل کیا جائے گا۔ بنجارہ، پکٹ اور بلکا پور نالوں کے علاوہ کوکٹ پلی نالہ حسین ساگر میں پانی کے بہاؤ کا اہم ذریعہ ہے۔ روزانہ 155 ملین لیٹر پانی حسین ساگر میں شامل ہوتا ہے۔ آلودہ پانی کے علاوہ پلاسٹک اور دیگر کیمیائی فضلہ حسین ساگر میں بہایا جارہا ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے نالہ میں سیوریج اور کیمیائی فضلہ کے بہاؤ کو روکنے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر بورڈ کو اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ اس نالہ سے حسین ساگر میں پہنچنے والا پانی آلودگی سے پاک رہے۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں 25 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعہ روزانہ 772 ملین لیٹر پانی کی صفائی کی جاتی ہے۔ عام طور پر شہری علاقوں میں 20 تا 30 فیصد سیوریج واٹر کے ٹریٹمنٹ کی گنجائش ہے جبکہ حیدرآباد میں یہ گنجائش 43 فیصد ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں روزانہ تقریباً 1781 ملین لیٹر سیوریج واٹر بہایا جاتا ہے جس میں 772 ملین لیٹر کی صفائی کی جاتی ہے۔ عنبرپیٹ ، ناگول اور دیگر علاقوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہیں۔ نئے ٹریٹمنٹ پلانٹ میں عصری ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو اُمید ہے کہ ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام سے حسین ساگر اور موسی ندی کو آلودگی سے پاک بنانے میں مدد ملے گی۔
