حسین ساگر جھیل کے تحفظ و نگہداشت ، گیٹس لگانے کی تجویز

   


150 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ ، اندرون ہفتہ ڈیزائن ، ٹنڈرس کی دوبارہ طلبی
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد کا خوبصورت سیاحتی مرکز حسین ساگر جھیل کو 150 کروڑ روپئے کے مصارف سے دروازے لگانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے تاکہ سیلاب کا پانی حسین ساگر میں لبریز ہونے کی صورت میں اس کو آہستہ آہستہ نچلی سطح پر چھوڑا جاسکے ۔ محکمہ آبرسانی اور محکمہ بلدی نظم و نسق کے اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف اجلاس طلب کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ۔ عہدیداروں نے اندرون ہفتہ ڈیزائن کو قطعیت دیتے ہوئے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حال ہی میں سیلاب سے حسین ساگر مکمل لبریز ہوگیا تھا ۔ حکومت نے محکمہ آبرسانی کے انجینئران چیف مرلیدھر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے انھیں حسین ساگر کے تحفظ اور نگہداشت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ دو دن قبل منعقدہ اجلاس میں مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی تھی ۔ حسین ساگر کی مکمل سطح 513.41 میٹر ہے ۔ اس ذخیرہ آب میں ہمیشہ پانی رہتا ہے ۔ جب بھی بارش زیادہ ہوتی ہے حسین ساگر میں پانی جمع ہوتا ہے پانی کی نکاسی سے زیریں حصہ میں رہنے والے علاقے و بستیاں جھیل میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ ہمیشہ ان بستیوں کے عوام کو دوسرے محفوظ مقامات کو منتقل کرنا پڑتا ہے ۔ اب ان کی منتقلی بھی نا ممکن ہو پارہی ہے ۔ اس لیے پانی کو محفوظ طریقے سے زیریں حصہ میں چھوڑنے کے لیے عہدیداروں کی جانب سے خصوصی منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے ۔ پانی کی نکاسی کے لیے متبادل انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں میریٹ ہوٹل کے قریب موجود چبوترے کو تین میٹر تک نکال کر وہاں گیٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈیزائن تیار ہونے کے بعد تخمینہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے گیٹس لگائے جائیں گے ۔ ان کی اونچائی کتنی ہوگی ۔ کتنا پانی چھوڑا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے تکنیکی امور کو قطعیت دی جاسکتی ہے ۔ عہدیداروں کی تجویز ہے کہ سیلاب کے پانی کو دیکھتے ہوئے 20 ہزار کیوسکس پانی زیریں حصے میں چھوڑا جاسکتا ہے ۔ زیریں سطح میں پانی کے بہاؤ میں جہاں بھی رکاوٹیں ہیں اس کو دور کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ 10 تا 11 گیٹس لگانے کی تجویز ہے ۔۔