پاٹی گڈہ فلائی اوور کے نام پر سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کرنے کی سازش ، حکومت اور عہدیداروں کو عوام کے مفادات کی فکر نہیں
حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) حسین ساگر ایک تاریخی جھیل ہے اور حیدرآباد کا ایک عظیم ثقافتی ورثے ہے ۔ اس کی حفاظت کے لئے ہیرٹیج اور ماحولیاتی جہدکاروں نے بارہا عدالتوں کا دورازہ کھٹکھٹایا اور انصاف کی گوہار بھی لگائی تھی۔ جس پر عدالتوں نے مختلف ادوار میں حکومتوں سے ناراضگی اور برہمی کا بھی اظہار کیاتھا۔ سال2022میںنیشنل گرین ٹربیونل نے ایک تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے حسین ساگر جھیل کی آلودگی پر ناراضگی او ربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کو ہدایت دی تھی کہ ایک جامع ایکشن پلان پر عمل آوری کے لئے ایڈیشنل چیف سکریٹری ‘ شہری ترقیات‘تلنگانہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی کو یہ ذمہ داری تفویض کی جائے کہ وہ حسین ساگر جھیل کو آلودگی سے پاک رکھے‘ماحولیاتی اصولوں کو نافذ کرے اور سخت نگرانی و اقدامات کے ذریعہ حسین ساگر جھیل کے پانی کو صاف اورشفاف بنائے رکھے۔ماحولیاتی جہدکاروں اور گنیش وسرجن کرنے والے مختلف اداروں کے مابین بھی کافی طویل قانونی جدوجہد حسین ساگر کی عظمت رفتہ کی بحالی اور شہر حیدرآبادکی اس عظیم او رتاریخی جھیل کی حفاظت کے لئے جاری رہے۔سپریم کورٹ حسین ساگر میں 2021میں گنیش وسرجن کی ’’آخری موقع‘‘ کے طور پر اجازت دی تھی مگر اس کے بعد بھی وسرجن کا سلسلہ بدستور جاری رہا ۔ اس سے قبل حسین ساگر کی حفاظت کے لئے ہی کہاجائے تو اس جھیل کے اطراف واکناف میںسیاحتی مراکز قائم کئے گئے او رایک خوبصورت بلکہ طویل راہداری نکالی گئی جس کو ’’نکلس روڈ‘‘ کا نام دیاگیا تھا ۔ شہر کی بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ سیاحتی مراکز میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایٹ اسٹریٹ سے لے کر جلا وہار‘ لیک ویو فرنٹ‘ لیک تھرل اور ایسے بہت سارے سیاحتی مقامات تشکیل دئے گئے جو حسین ساگر کو آلودگی سے بچانے کے موثر ثابت ہوسکتے تھے مگر عدم نگرانی اور لاپرواہی کے نتیجے میں پلاسٹک بیاگس سے لے کر دیگر کوڑا او رکچرا حسین ساگر جھیل کی نذر ہونے لگا۔ریکریشن زون کے طور پر اس علاقے کو تیار کئے جانے کی وجہہ سے یہاں پر ٹریفک بھی کافی کم ہوتی ہے ۔ رات کے اوقات میں مجموعی طور پر اس راستے پر شاذونادر ہی گاڑیاں دیکھائی دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نئے ریکریشن زون پر سابقہ وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو اور سابقہ مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کی سمادھیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔عدالت نے حسین ساگر کے پانچ سو میٹراطراف واکناف کے علاقے میںتعمیری سرگرمیوںپر بھی امتنا ع عائد کیا ہوا ہے ۔ ان سب کے باوجود پاٹی گڈہ فلائی اوور کا اختتام اسی سڑک پر ہونے جارہا ہے ۔حالانکہ مذکورہ زیر تجویز فلائی اورسے ریکریشن زون مکمل طور پر ختم ہوجائے گا‘ پی وی نرسمہا رائو کی سمادھی کے حصہ کو بھی منہدم کرنا پڑیگا او رٹریفک میںاضافہ کا سبب ایٹ اسٹریٹ سے لے کر جلا وہار‘ لیک ویو فرنٹ‘ لیک تھرل کے قیام کے سارے مقاصد فوت ہوجائیں گے۔ایک طرف لوگوں کو بے گھر کرنے اور دوسری طرف شہر حیدرآباد کی خوبصورتی کو تباہ کرنے والے منصوبوں پر عمل آوری سے قبل حکومت تلنگانہ بالخصوص شہری ترقی کے ذمہ دار محکموں کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔نکلس روڈ جو ماضی میں علیحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کی سب سے بڑے احتجاج ’’ساگر ہارم‘‘ کی بھی گواہ رہی ہے ۔ زیرتجویز پاٹی گڈہ فلائی اوور کے متعلق جن لوگوں کو نوٹسیں بھیجی گئی ہیں ‘ ان کی جانب سے جو تجاویز اور مشورہ محکمہ حصول اراضیات کو دئے گئے ہیں اگر اس پر عمل آوری ہوجاتی ہے تو یقینا نکلس روڈ ‘ ریکریشن زون اور پاٹی گڈہ کے مکانات سب کچھ بچ جائیں گے۔ضد یاتعصب سے بالاتر ہوکر حکمرانو ں اور اعلی عہدیداروں کو شہراورشہریوں کے مفادات کے لئے فیصلے لینا چاہئے ۔ تاکہ جو اعتماد عوام نے حکمرانوں پر کیاہے اس اعتماد کو برقرار رکھا جاسکے۔پاٹی گڈہ فلائی اوور کے متعلق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ فلائی اوور سے بیگم پیٹ علاقے کو درپیش ٹریفک کے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔