ہائی کورٹ کے احکامات کو چیلنج، پابندیوں کیلئے ایک سال کی مہلت کی درخواست
حیدرآباد۔15 ۔ستمبر (سیاست نیوز) حسین ساگر میں گنیش وسرجن کے مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی درخواست پر سپریم کورٹ میں 16 ستمبر کو سماعت ہوگی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے گنیش وسرجن کے سلسلہ میں عائد کردہ پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں در خواست نظر ثانی داخل کی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ فوری طور پر اس معاملہ کی سماعت کی جائے ۔ سالیسٹر جنرل نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ ہنگامی طور پر اس معاملہ کی سماعت ہو جس پر عدالت نے جمعرات کو سماعت سے اتفاق کرلیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس(پی او پی) سے تیار کردہ مورتیوں کے وسرجن پر پابندی میں ایک سال کی رعایت چاہتی ہے کیونکہ گنیش فیسٹول کا آغاز ہوچکا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے وسرجن پر پابندی کے علاوہ شہر میں 26 مقامات پر مصنوعی تالاب تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ حسین ساگر کو آلودگی سے بچایا جاسکے۔ ہائی کورٹ کے احکامات میں ترمیم اور ایک سال کی رعایت کیلئے حکومت نے درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا جس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی کی جانب سے یہ درخواست دائر کی گئی۔ توقع ہے کہ کل اس معاملہ میں عدالت احکامات جاری کرے گی کیونکہ 19 ستمبر کو گنیش وسرجن کا جلوس ہے۔ حکومت کو سپریم کورٹ سے مثبت فیصلے کی امید ہے۔ دوسری طرف حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس کی مورتیوں کے وسرجن کا سلسلہ جاری ہے۔ ہائی کورٹ کے احکامات کی پرواہ کئے بغیر مورتیوں کا وسرجن کیا جارہا ہے۔ حکام کی جانب سے مورتیوں کے وسرجن کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ حکومت اور جی ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ مورتیوںکی تنصیب کے بعد ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے لہذا لمحہ آخر میں عمل آوری ممکن نہیں۔ R