حسین ساگر میں گنیش وسرجن پابندیوں پرہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

   

حکومت و کمشنر پولیس کے رویہ پر برہمی، سماعت سے 10 منٹ قبل رپورٹ پیشکشی پر اعتراض، مشورے نہیں عمل کی ضرورت
حیدرآباد/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) حسین ساگر میں گنیش وسرجن مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج سماعت ہوئی ۔ عدالت نے وسرجن کیلئے پابندیوں کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وسرجن کے امور سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سماعت کے آغاز سے 10 منٹ قبل رپورٹ پیشکشی پر برہمی کا اظہار کرکے عدالت نے جی ایچ ایم سی کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور ریمارک کیا کہ 10 منٹ قبل رپورٹ پیش کرنے پر جائزہ لینے وقت لگے گا۔ عدالت نے کمشنر پولیس کے رویہ پر بھی ناراضگی جتائی۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے جاری رہنمایانہ خطوط پر عمل نہ کئے جانے پر ہائی کورٹ نے سوال اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے رپورٹ میں یہ نہیں کہا ہے کہ وسرجن کے موقع پر عوام کو ہجوم کی شکل میں جمع ہونے سے روکا جائے گا۔ حکومت نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں 48 تالابوں اور جھیلوں میں وسرجن کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ آلودگی سے بچنے مٹی کی مورتیاں عوام میں تقسیم کی جارہی ہیں۔ ایک لاکھ مورتیوں کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ صرف تجاویز نہیں بلکہ واضح اقدامات اور رہنماخطوط کی ضرورت ہے۔ عدالت نے وسرجن کے موقع پر پابندیوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں عدالت احکامات جاری کریگی۔ عدالت کے احکام میں وسرجن کے موقع پر احتیاطی تدابیر و وسرجن کو قواعد کے تحت بنانے حکومت کو ہدایت دی جاسکتی ہے۔عدالت نے ریمارک کیا کہ کورونا وباء اور آلودگی سے بچاؤ کے ذریعہ گنیش وسرجن کے اہتمام میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ وینو مادھو نے حسین ساگر میں وسرجن پر پابندی عائد کرنے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی۔ کارگزار چیف جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ اور جسٹس پی ونود کمار پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے اس پر جی ایچ ایم سی اور حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت نے کمشنر پولیس کی رپورٹ کے طریقہ کار پر اعتراض جتایا اور کہا کہ عدالت کو رپورٹ پیش کرنے کا یہ طریقہ نہیں ۔ سرکاری وکیل نے حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا جس پر عدالت نے کہا کہ مشورے نہیں واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ کورونا موجودہ صورتحال کے پیش نظر عوام کو بچانے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سماعت کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں احکامات جاری کریں گے۔R