حسین ساگر میں گنیش وسرجن پر مستقل فیصلہ ہو

   

ہائی کورٹ کی ہدایت، حکومت کو 11 اگست تک مہلت
حیدرآباد: 5 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ حسین ساگر میں گنیش وسرجن کی اجازت کے سلسلہ میں مستقل طور پر کوئی فیصلہ کرے۔ گنیش وسرجن کا حسین ساگر میں انعقاد روکنے ایڈوکیٹ وینومادھو نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کورونا وباء کے پیش نظر گزشتہ سال وسرجن کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جاریہ سال اجازت دی جارہی ہے یا نہیں؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ اس بارے میں حکومت سے بات چیت کے بعد عدالت کو واقف کرایا جائیگا۔ عدالت نے کہا کہ کووڈ وباء پوری طرح پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ کورونا کے پیش نظر حکومت کو فیصلہ کرنا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ ہر سال وسرجن پر فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت کو مستقل طور پر فیصلہ کرنا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ حسین ساگر کو آلودگی سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اسے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرکے سیاحوں کو راغب کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے گنیش وسرجن کے بارے میں حکومت کو اپنے فیصلے سے واقف کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 11 اگست کو مقرر کی ہے۔