حسین ساگر کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ،خطرے کے نشان کے قریب نہیں، پانی کا جمع ہونا خوش آئند

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔4اگسٹ(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود تفریح گاہ اور سیاحوں کا پسندیدہ مقام حسین ساگر لبریز ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ریاست کے مختلف علاقوں اور دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں گذشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہلکی اورتیز بارش کے سبب حسین ساگر میں کافی پانی جمع ہوچکا ہے ۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حسین ساگر کی مکمل سطح آب 513.41 میٹر ہے اور موجودہ سطح آب 513.370 میٹر تک پہنچ چکی ہے ۔سال 2016میں ہوئی بارشوں کے دوران اندرون ایک برس حسین ساگر کی سطح آب مکمل ہوچکی تھی اور بتدریج پانی کی نکاسی عمل میں لائی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق سال 2016کے دوران ہونے والی بارشوں کے سبب حسین ساگر کی مکمل سطح آب سے اوپر پانی پہنچ چکا تھا اور 513.90 کے نشان کو پہنچنے کے بعد حسین ساگر سے پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا تھا ۔بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں میں جاری ہلکی اور تیز بارشوں کے سبب حسین ساگر میں جمع ہونے والا پانی اور مختلف راستوں سے ساگر میں پہنچنے والے پانی کے سبب حسین ساگر کی سطح آب میں تیزی کے ساتھ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ۔ محکمہ آبپاشی اور حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے عہدیداروں کے مطابق حسین ساگر کی موجودہ سطح آب کوئی خطرہ کے نشان کے قریب نہیں ہے کہ فوری طور پر پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا جائے بلکہ حسین ساگر میں اس سطح تک پانی کا جمع ہونا خوش آئند بات ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مختلف متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے حسین ساگر کی سطح آب پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کے خطرہ کی صورت میں فوری اقدامات کئے جاسکیں۔بتایا جاتا ہے کہ حسین ساگر تک پہنچنے والی پانی کی راہوں کو صاف کئے جانے کے نتیجہ میں حسین ساگر جلد لبریز ہونے لگا ہے اور حسین ساگر سے پانی کے اخراج کی صورت میں یہ پانی نالوں کے ذریعہ گول ناکہ تک پہنچ کر موسی ندی میں مل جاتا ہے ۔ حسین ساگر سے پانی کے اخراج کی صورت میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے 5.5 کیلو میٹر کی مسافت پر موجود ان نالوں کے اطراف بنائے جانے والے مکانات اور ان میں قیام کرنے والوں کا تخلیہ کیا جانیا ناگزیر ہوتا ہے اورجی ایچ ایم سی کی جانب سے گذشتہ دو برسوں کے دوران ان نالوں پر کئے جانے والے بیشتر قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔