حیدرآباد کو عالمی معیار کا درجہ ، کونسل میں کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد۔8 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حکومت شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کے لئے یکساں طور پر قدم اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار کی گئی۔ شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر قانون ساز کونسل میں مباحث کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں دیہی علاقوں کی مثالی ترقی کے ذریعہ بہتر انفراسٹرکچر سہولتیں فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں کے معاملہ میں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پنچایت کی سطح پر شہری علاقوں کی طرح ترقی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی موافق صنعتی پالیسی کے نتیجہ میں کئی بین الاقوامی اداروں نے حیدرآباد کا رخ کیا ہے ۔ نئی صنعتوں کے قیام سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ ریاست کی 50 فیصد آبادی شہری علاقوں میں بستی ہے۔ حکومت نے چار مختلف کمیٹیاں قائم کی ہیں جو ترقیاتی منصوبے تیار کریں گی۔ عوام کی شراکت کے ذریعہ ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جائے گا ۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ مکانات کی تعمیر کیلئے سیلف اسسمنٹ اسکیم متعارف کی گئی جس کے تحت عوام کو اجازت کے حصول کے لئے دفاتر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 75 گز سے کم اراضی پر تعمیر کیلئے اجازت کی ضرورت نہیں۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ سڑکوں کی تعمیر پر 1800 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ ایس آر ڈی پی پراجکٹ کے تحت لنک روڈس کی تعمیر اور ترقی کا کام جاری ہے۔ بارش کی صورت میں عوام کی حفاظت کے لئے نالوںکی ترقی اور تحفظ کا خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے ۔ جھیلوں اور تالابوں کی حفاظت کے لئے خصوصی کمشنر کا تقرر کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 37کروڑ سے ٹینک بنڈ کو ترقی دی گئی اور ہر اتوار کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسین ساگر کے دامن میں نائیٹ بازار کے قیام کی تجویز ہے ۔ شہری علاقوں میں صفائی عملہ کی تعداد 54776 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرین بجٹ کے ذریعہ شہری علاقوں میں شجرکاری کی مہم شروع کی گئی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد ترقیاتی منصوبہ کی تکمیل کے بعد عالمی معیار کے شہر میں تبدیل ہوجائے گا ۔ ر