حصص بازار میں مسلسل گراوٹ کا رجحان برقرار

   

Ferty9 Clinic

۔37.59 لاکھ کروڑ کا نقصان،سرمایہ کاروں کی حالت ابتر
حیدرآباد۔یکم اپریل(سیاست نیوز) ملک میں سرمایہ کارو ںکی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اب حصص بازار کی گراوٹ کو روکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔تاحال بازار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 37.59لاکھ کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔ سال 2019-20مالی سال کے اختتام میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا جائزہ لیں تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ جاریہ سال کے دوران 37.39لاکھ کروڑ کے نقصانات بازارکو برداشت کرنے پڑے ہیں اور سرمایہ کاروں کے اس بھاری نقصان کی بنیادی وجہ حصص کی فروخت شمار کی جا رہی ہے۔ سینسکس میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اور حصص کی فروخت کے رجحان میں اضافہ کے ساتھ لگائے گئے اندازے سے اس بات کی توثیق ہوئی ہے اور سرمایہ کاروں کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور کوئی بھی ماہرین معاشیات فی الحال یہ کہنے کے موقف میںنہیں ہے کہ ملک کے بازارمیں بہتری آنے کے لئے کتنا وقت درکا رہوگا۔ماہ مارچ کے دوران بازار میں 23 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ کوروناوائرس کے سبب عالمی سطح پر پیدا شدہ حالات کا اثرہندستانی حصص بازار پر مرتب ہوا ہے جس کے سبب عالمی کمپنیوں کے حصص میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور عالمنی سرمایہ کاروں کو بھی بھاری نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران بھی بازار میں کوئی بہتری پیدا نہ ہونے کی صورت میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں اور کئی کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا بھی خدشہ ہے لیکن حکومت کی جانب سے اگر صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کرتے ہوئے بازار کو راحت اور کمپنیوں کیلئے پیاکیج کا اعلان کیا جاتا ہے توسرمایہ کاروں کو ہونے والی بھاری نقصانات میں کچھ حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ عالمی سطح پر معاشی ابتری کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے منفی اثرات ہندستانی بازاروں پر پڑنے کے علاوہ ہندستان میں کئے گئے لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے بھی سرمایہ کاروں کو سنگین حالات کا سامنا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں سرکردہ کمپنیوں کے ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی خصوصی پیاکیج کے اعلان کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس صورتحال میں حکومت کو اس جانب متوجہ کرنا بھی درست نہیں ہے ‘حکومت فی الحال سرکردہ کمپنیوں اور صنعتکاروں سے مدد طلب کررہی ہے ۔