تقررات میں کوتاہی منظم سازش کا حصہ ، عدالتوں سے انصاف رسانی پر امید
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔13اکٹوبر۔ریاست تلنگانہ میں حصول انصاف کے لئے موجود متبادل ادارۂ جات کی غیر کارکردگی کے سبب صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے اور حکومت کی جانب سے ان اداروں میں تقررات کے سلسلہ میں کی جانے والی کوتاہی کو منظم سازش کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں عوام اور غیر سرکاری تنظیموں کو حصول انصاف کیلئے سوائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے کوئی اور چارہ نہیں ہے کیونکہ ریاست میں نہ ہی انسانی حقوق کمیشن کارکرد ہے اور نہ ہی لوک آیوکت موجود ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ریاست میں خواتین کمیشن ‘ کمیٹی برائے حقوق اطفال بھی موجود نہیں ہے اور قانون حق آگہی کے سلسلہ میں صرف دو کمشنران پر کام چلایا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ان اداروں کوغیر کارکرد بنانے کا مختلف گوشوں سے الزام عائد کیا جا رہاہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی حکومت اس جانب توجہ مبذول کر رہی ہے۔ ریاست میںانسانی حقوق کمیشن کی عدم موجودگی کے سبب اپنے حقوق کی پامالی کے سلسلہ میں شہریوں کو عدالت کا رخ کرنا پڑرہا ہے اور عدالت کا رخ کرنا ہر عام شہری کے بس کی بات نہیںہوتی جبکہ اگر ریاستی انسانی حقوق کمیشن موجود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بھی انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں کمیشن سے رجوع ہوتے ہوئے اپنی شکایت درج کرواتے ہوئے اپنے معاملہ کی سنوائی کو یقینی بنا سکتا ہے لیکن اب انسانی حقوق کمیشن میں سنوائی کے کوئی آثار نہیں ہیں کیونکہ کمیشن موجود ہی نہیں ہے۔ اسی طرح لوک آیوکت کی عدم موجودگی ریاست تلنگانہ میں جاری بد عنوانوں کو روکنے میں ناکامی کا اہم سبب ہے کیونکہ ریاست میں جاری بد عنوانیوں ‘ بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے خلاف لوک آیوکت میں کوئی بھی شکایت کرتے ہوئے ان امور پر توجہ مبذول کرواسکتا ہے اور متعلقہ اداروں اور محکمہ جات کو نوٹس جاری کرواسکتا ہے لیکن ریاست میں اب لوک آیوکت بھی موجود نہیں ہے۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے خواتین کو تحفظ کی فراہمی اور ان کے حقوق کو پامال ہونے نہ دینے کے متعدد دعوے کئے جا تے ہیں لیکن عملی طور طور دیکھا جائے تو 5سال کے بعد دوسری معیاد میں حکومت نے ریاستی کابینہ میں خاتون وزراء کو شامل کیا ہے اور اب تک بھی ریاست میں خواتین کمیشن موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت کی گئی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کو گذشتہ دنوں عدالت نے ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں کمیٹی برائے حقوق اطفال کی تشکیل عمل میں لائے ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ان ادارو ںکو غیر کارکرد رکھے جانے کو غیر سرکاری اور انسانی حقوق کی تنظیمو ںکی جانب سے منظم سازش تصور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت انصاف رسانی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لئے اس طرح کی کوشش کر رہی ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں قانون حق آگہی کے تحت معلومات کی عدم فراہمی کی صورت میں کاروائی کے لئے تقرر کئے جانے والے کمشنران کی تعداد کو بھی محدو د رکھا گیا اور اب تلنگانہ اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں صرف دو کمشنران موجود ہیں جن میں چیف کمشنر انفارمیشن ڈاکٹر راجہ سدارام کے علاوہ کمشنر بدھا مرلی شامل ہیں اور دو کمشنران پر جو محکمہ جاتی ذمہ داریاں عائد ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ان پر کام کے بوجھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے ان اہم ادارو ںکی یہ صورتحال ہے تو محکمہ جات کے حالات کیا ہوں گے اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کیونکہ بعض انسانی حقوق کارکنوں کا کہناہے کہ ریاست کے محکمہ جات اور حکومت کے حالات کو عوام سے مخفی رکھنے کیلئے ہی ان اداروں کو غیر کارکرد رکھا گیا ہے ۔جناب ایس کیو مسعود نے بتایا کہ ان اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے کی صورت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں کیونکہ شہری عام طور پر ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف عدالت سے نہیں بلکہ انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوتے ہیں جہاں انہیں بروقت راحت حاصل ہونے کی توقع ہوتی ہے اسی طرح قانون حق آگہی کے سلسلہ میں داخل کی جانے والی درخواستوں پر سنوائی کے سلسلہ میں مکمل کمیشن کی تشکیل ضروری ہے کیونکہ کمشنران کی عدم موجودگی درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔خواتین کے حقوق کے علاوہ حقوق اطفال کے سلسلہ میں میں کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داروں کا بھی احساس ہے کہ حکومت ان ادارو ںکو غیر اہم قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔لوک آیوکت سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی شکایات کرنے والوںکوکوئی فورم نظر نہیں آرہا ہے۔