حضرت امام بخاریؒ کو رسول ﷺ سے بے پناہ محبت تھی

   

جلسہ آغاز درس بخاری سے مفتی حافظ محمد مستان علی قادری کا خطاب
حیدرآباد /26 اپریل (راست) حضرت امام بخاریؒ علم وفہم، ذکاوت، وسعت نظر، قوت حافظہ اورفقہ واجتہاد جیسی اعلیٰ صفات وخصائص کے ساتھ متصف تھے آپؒ کا ہر قول وعمل حضورﷺکے قول وعمل کا مظہر تھا۔ آپ نہایت متوکل اورغذا نہایت کم تھی۔ لذائذ دنیا اور عیش وعشرت سے امام بخاریؒ کو سوں دورتھے۔ آپ کو من جانب الی اللہ وہ تمام فضائل وکمالات عطاہوئے تھے جو کسی ایک شخص کے اندر اس قدر جامعیت کے ساتھ نہیں پائے گئے ۔ ان خیالات کا اظہار کلیۃ البنین مغلپورہ میں منعقدہ جلسہ آغازدرس بخاری شریف کے اجتماع سے مفتی حافظ محمد مستان علی قادری ناظم جامعۃ المؤمنات نے بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیتے ہوئے کیا۔ جلسہ کا آغاز محمد شریف کی قرأت وحافظ وقاری محمد مصعب پاشاہ دانش کی نعت شریف سے ہوا۔نظامت کے فرائض مفتی محمدعمران انجام دئے۔بخاری شریف کی پہلی حدیث مبارکہ کی تلاوت عالم محمد فراز نے کی۔ سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مفتی محمد مستان علی قادری نے کہا کہ امام بخاریؒ ۱۶/ سال کی مدت میں بخاری شریف کوتکمیل کئے ، اس تصفیف کا عمل مسجد حرام سے شروع کیا اور ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کر کے دو رکعت نماز استخارہ ادا فرماتے اور حدیث کی صحت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قلبی اطمینان ہوجاتا تو اس کو تصنیف فرماتے۔ علم حدیث تمام علوم دینیہ کی اصل ہے ،بخاری شریف کو قرآن مجید کے بعد صحیح کتاب کا درجہ دیا گیا۔ حضرت امام بخاریؒ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت اور احادیث نبویہ کی تفتیش و تحقیق اور پھر اشاعت میں صرف کی۔ امام بخاری کا قوت حافظہ نرالی اور غیر معمولی تھا آپ کو جبل الحفظ کہا جاتا تھا استاذ سے جو حدیث سنتے یا کسی کتاب پر نظر ڈالتے وہ حافظہ میں محفوظ ہوجاتی تھی۔ تقریبا سارے تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ امام بخاری کو بچپن ہی میں ستر ہزار احادیث یاد تھیں۔ امام بخاری خود بیان کرتے ہیں مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں ۔لہٰذا امام بخاری کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے حدیث کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ عمل کرنے پر یقینا نجات کا سامان ہوگا۔اس جلسہ میں بحیثیت مہمان خصوصی مفتی عبد الرحیم، مفتی سید مظہر ، ڈاکٹر یم کے صادق ،مولانا شہباز قادری ، ڈاکٹرمفتی شیح عابد، مفتی ریاض اشرفی وغیرہ شرکت کئے۔ مفتی حافظ محمد مستان علی قادری کی رقت انگیز دعا اور سلام پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔