گولکنڈہ میں جلسہ شہادت حضرت امام حسینؓ ، مولانا شمیم الزماں ، مولانا سید متین علی شاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد ۔ /11 ستمبر (پریس نوٹ) حضرت امام حسین تحفظ شریعت کا نام ہے ۔ آپؓ کی عظیم قربانی قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتے رہے گی ۔ آپؓ کی قربانی نامساعد حالات کے باوجود حق کے لئے باطل قوتوں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے ۔ حضرت امام حسین نے اپنی اور اپنے اہل و عیال و اصحاب کی قربانی پیش کرکے اسلام کو زندہ کردیا ۔ معرکہ کربلا دراصل معرکہ حق و باطل ہے ۔ شہدائے کربلا نے راہ حق میں اپنا سب کچھ قربان کردینے کا بے مثال درس دیا ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا شمیم الزماں قادری (کولکتہ) نے کل /10 محرم کو بعد نماز ظہر مسجد اختری قلعہ گولکنڈہ میں منعقدہ مرکزی جلسہ شہادت حضرت امام حسینؓ کے موقع پر کثیر اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا سید متین علی شاہ قادری ( صدر کل ہند سنی علماء و صوفیہ (بورڈ) نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ بزم انسانیت کے روشن چراغ ہیں ۔ آپؓ نے صبر و استقامت ، زہد و تقویٰ کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔ حضرت امام حسینؓ نے جہاد اور نماز کا ایسا حسین امتزاج قائم کیا جسے اختیار کرکے مسلمان کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ واقعہ کربلا تاریخ انسانی کا بہت ہی اہم اور موثر واقعہ ہے ۔ جس کا فیضان تاقیامت جاری و ساری رہے گا ۔ مولانا متین علی شاہ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اہل بیت اطہار کی سیرت کا مطالعہ کریں ۔ جلسہ کا آغاز کمسن قاری سید نور احمد شاہ قادری کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ نعت شریف قاری سید نور محمد شاہ قادری سید دلاور علی شاہ قادری بلال نے سنائی ۔ قاری غلام محمدی عبدالرشید ارشد فیاض علی سکندر نے منقبت بارگاہ شہداء کربلا پیش کیا ۔ جلسہ کے آخر میں دعائے عاشورا پڑھائی گئی ۔ اس موقع پر جناب ایم اے مجیب صدر بزم رحمت عالم قاری سید قمرالدین قادری الملتانی ڈاکٹر محمد ابراہیم رضوی افسر علی خان ، محمد جمیل احمد ، حافظ و قاری شیخ طاہر ، الحاج عبدالوحید خان قادری کے علاوہ شرکاء جلسہ کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ سلام بحضور خیرالانام شہداء کربلا کو قاری معز الدین فراز نے پیش کیا ۔ آخر میں دعاء سلامتی کے بعد کنوینر جلسہ عبدالسعید خان کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا ۔