الحاج مرزا نثار علی بیگ قادری الجیلانی
حضرت مولانا ابوتُراب میراں سید شاہ بدرالدین قادری الجیلانی نوراللہ مرقدہ الکریم کا سلسلۂ نسب چوبیسویں(۲۴) پشت میں حضور سیدنا غوث الاعظمؓ سے جاملتا ہے ۔ آپ کا شمار وقت کے اکابر و مشاہیر علمائے اہلسنت میں ہوتا ہے۔ ۲۱؍ صفر المظفر ۱۳۶۸ھ م ۶؍ فبروری ۱۹۴۷ء کو ولادتِ باسعادت ہوئی جب آپ چار سال کے ہوئے تو حضرت محدثِ دکن سید عبداﷲ شاہ صاحب قبلہؒ نے مسندِ حضرتِ موسیٰ قادریؒ پر تسمیہ خوانی انجام دی جس کی برکت سے آپ کا سینہ ، علم دینیہ و فنونِ عربیہ کا خزینہ بن گیا ۔ جب آپ عالم شباب میں آئے تو آپ کا نکاح حضرت مولانا سید سیف الدین شرفیؒ کی صاحبزادی سے ہوا اور آپ کے بطن سے دو صاحبزادگان ، اور ایک دختر تولد ہوئیں۔ آپ کو چاروں سلاسل قادریہ ، چشتیہ ، نقشبندیہ ، سُہروردیہ میں خلافت و اجازت حضرت فریدالعصر مولانا سید شاہ ندیم اللہ قادری الجیلانیؒ سے حاصل تھی ۔ آپ کے چچا حضرت مولانا سید شاہ ولی اﷲ قادری المعروف حبیب پاشاہؒ کے علاوہ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا سید شاہ حبیب اﷲ قادری المعروف رشید پاشاہؒ نے بھی خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا ۔ اپنی حیات میں آپ نے بے پناہ علمی خدمات انجام دیئے اور مختلف مساجد کے علاوہ خانقاہ شاہ گنج میں درسِ قرآن و حدیث کے محافل کا اہتمام فرماکر تشنہ ہائے علوم دینِ متین کی پیاس بجھائی اور اُنھیں صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔ حیدرآباد کے علاوہ شکاگو (امریکہ ) میں اپنے قیام کے دوران میلاد جلوس کی بنیاد ڈالی ۔ مختلف تنظیموں مثلاً مدرسہ بورڈ ، سُنّی علماء بورڈ ، کل ہند جمعیۃ المشائخ الھند، کل ہند غلامانِ غوث تحریک کے بانی و صدر رہے جس کے تحت گُشتی کُتب خانہ کو عوام تک پہنچایا ۔ آپ میں خطیبانہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی ، شہر حیدرآباد کی مختلف مساجد میں جمعہ کی خطابت انجام دی ۔ یکم محرم الحرام ۱۴۳۶ھ م ۵ اکتوبر ۲۰۱۵بروز پنجشنبہ کو عالم جاودانی سے راہیٔ ملک بقا ہوئے ۔ جسد خاکی کو امریکہ سے حیدرآباد لایا گیا اور حضرت شاہ ولی اللہ قادری الجیلانیؒ صابرنگر حیدرآباد کے پہلو میں آپ کو سپرد لحد کیا گیا ۔
