حضرت محمدؐکی شان میں گستاخی آزادی اظہار نہیں: پوٹن

,

   

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا روسی صدر کے بیان کا خیرمقدم

ماسکو؍اسلام آباد ۔ روسی صدر ولادیمیر میر پوٹن نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پوٹن نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پیغمبر کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے جذبات کی خلاف ورزی ہے۔روسی صدر کا کہنا تھاکہ شان رسالتؐ میں گستاخی لوگوں کو ناراض کرنے اور اشتعال دلانے کا باعث بنتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں۔ان کا کہنا تھاکہ شان رسالت میں گستاخی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو پر حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھاکہ ایسی حرکتیں انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ آزادی آپ کے اردگرد لوگوں کو عزت دینے کا نام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روس ایک کثیر النسلی اور کثیر الاعتقادی ریاست کے طور پر تیار ہوا ہے اور ہم ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرنے کے عادی ہیں،مگر کچھ دوسرے ممالک اس چیز کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر کے پیغمبراسلام ؐ سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ روسی صدر کے بیان کا خیرمقدم کرتاہوں کہ نبی پاک کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ روسی صدر کا بیان میرے موقف کی تائید ہے کہ شان رسالت میں گستاخی آزادی رائے نہیں،وزیراعظم نے کہا کہ مسلم امہ کو اسلاموفوبیا کے مقابلے کیلیے پیغام کو غیرمسلم دنیا تک پہنچانا چاہیے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کھلے دل کے ساتھ مسلم امہ کے اس لیڈر (عمران خان)کا بھی شکریہ ادا کریں جس نے نبی کریم ؐکی شان اقدس کی حرمت کا مدعا پوری دنیا کے سامنے رکھا اور آج ولادیمیر پوٹن جیسے عالمی قائد عمران خان کی ان کاوشوں کے نتیجے میں اس مسئلے پر دو ٹوک رائے دے رہے ہیں۔