آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس،ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا لکچر
حیدرآباد ۔۲۲؍ڈسمبر( پریس نوٹ) حدیبیہ میں بیعت الرضوان کے بعد قریش کی طرف سے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سفراء کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا۔ قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو حاضر ہوا اور بڑی دیر تک صلح کی شرائط پر بات چیت ہوتی رہی سب نے آشتی و صلح پر اتفاق کیا۔جو صلح نامہ ہوا اس کی تحریر حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے تفویض ہوئی۔ترجمہ طبقات ابن سعد میں صلح نامہ کے یہ الفاظ ملتے ہیں۔ ’’یہ وہ (صلح نامہ) ہے جس پر محمدبن عبد اللہؐ اور سہیل بن عمرو نے صلح کی۔ دونوں نے دس سال تک ہتھیار رکھ دینے کا عہد کیا کہ لوگ امن سے رہیں اور ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں اس طور پر کہ نہ خفیہ چوری ہو نہ خیانت ہو یہ معاہدہ ہمارے درمیان مثل ایک صندوق کے ہے۔ جو چاہے کہ (حضرت) محمدؐ کی ذمہ داری میں داخل ہو تو وہ ایسا کر سکے گا، جو شخص یہ پسند کرے کہ قریش کے عہد ٹمیں داخل ہو وہ بھی ایسا کر سکے گا۔ ان میں سے جو شخص بغیر اپنے ولی کی اجازت کے (حضرت) محمدؐ کے پاس آئے گا تو وہ اسے اس کے ولی کے پاس واپس کر یں گے۔ اصحاب محمدؐ سے جو شخص قریش کے پاس آئے گا وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔ اس سال (حضرت) محمدؐ اپنے اصحاب کو ہمارے پاس سے واپس لے جائیں گے اور سال آئندہ ہمارے پاس مع اپنے اصحاب کے اس طرح آکر مکہ میں قیام کریں گے کہ سوائے ان ہتھیاروں کے کوئی ہتھیار لے کے ہمارے یہاں داخل نہ ہوں گے جو مسافر کے ہتھیار ہوتے ہیں اور وہ تلواریں ہیں جو چمڑے کے میان میں ہوتی ہیں‘‘۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن، سبزی منڈی قدیم میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۳۸۶‘ویں تاریخ اسلام اجلاس میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات صلح حدیبیہ اور ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐ حضرت مسور بن مخرمہ ؓ کے احوال شریف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت مسورؓ بن مخرمہ ان خوش نصیبوں میں ہیں جنھوں نے بچپن کا اہم اور سیکھنے والا زمانہ فیضان رسالت سے شرف پاتے ہوئے گزارا اور ان کی زندگی کی ابتداء ہی تربیت حق اور انوار حبیب کبریاؐ سے فیضیاب ہوتے ہوئے ہوئی۔ حضرت مسورؓ بن مخرمہ ، عبد مناف بن زہرہ کی اولاد سے تھے اسی لئے زہری کہلاتے تھے ان کی کنیت ابو عبد الرحمن مشہور ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف آپ کے حقیقی ماموں تھے حضرت مسورؓ کی والدہ کا اسم مبارک عاتکہؓ بنت عوف تھا۔ حضرت مسورؓ کی ولادت ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ سارا گھر انوار ایمان سے جگمگا رہا تھا۔ بچپن میں رسول اللہؐ کی صحبت کا شرف پایا۔ چھ سال کی عمر میں مدینہ منورہ حاضر ہوے تھے۔ خدمت اقدسؓ میں زیادہ حاضر رہا کرتے تھے۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے بتایا کہ ایک مرتبہ جب کہ حضور انورؐ وضو فرما رہے تھے پشت اقدس سے چادر مبارک ذرا سی ہٹ گئی تھی تو انھوں نے مہر نبوت کی زیارت کی۔ حضور اقدسؐ نے ان کے منہ پر تھوڑے پانی کے چھینٹے دئیے جس پر حضرت مسورؓ ساری زندگی مسرور و شاداں رہے۔ حضرت مسورؓ کو صغر سنی میں رسول اللہؐ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شرکت کی سعادت بھی ملی۔ حضرت مسورؓ بہت ذہین تھے یادداشت بڑی قوی تھی۔ رسول اللہؐ کی خدمت اقدس میں گزرے ہوے ماہ و سال کی ایک ایک تفصیل یاد تھی۔ حضرت مسورؓ اپنے ماموں حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کے ساتھ اکثر خلفاء راشدین کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔ وہ اہل بیت اطہارؓ کے ساتھ بڑی گہری وابستگی کے حامل تھے۔ رجحان طبع حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف تھا۔ حضرت مسورؓ کثرت سے عبادات کیا کرتے تھے بلند مرتبہ فقیہہ اور بڑے زبردست عالم تھے۔ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کے بعد مکہ چلے آے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ حضرت عبد اللہؓ بن زبیر کے حامیوں میں ممتاز تھے۔ عشق الٰہی کی دولت سے مالا مال تھے پوری زندگی محبت رسول ؐ سے عبارت تھی۔ رسول اللہؐ کے تمام آثار و منسوبات کو دل و جان سے عزیز رکھتے تھے۔ اتباع سنت کا کامل نمونہ تھے۔ ۶۴ھ میں جب شامیوں نے حرم شریف کا محاصرہ کیا تو حضرت مسورؓ حطیم میں محو نماز تھے اسی دوران شامی فوج کی سنگباری کا نشانہ بنے اور پانچ دن بعد وفات پائی۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں حضرت تاج العرفاءؒ کا عرض کردہ سلام پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’۱۳۸۶‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میںجناب محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔