گلبرگہ میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد، حضرت علی الحسینی، حضرت مصطفی الحسینی ، ڈاکٹر وجئے کمار اور دیگر علماء و دانشوروں کا خطاب
گلبرگہ : 14؍دسمبر:(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)حضرت ڈاکٹر سید شا ہ گیسو دراز خسرو حسینی ؒ سابق صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی و بانی چانسلرخواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کی عظیم دینی تعلیمی خدمات کی یاد میں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ضمن میں حضرت سید محمد علی الحسینی سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ ،صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی و چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ کی صدارت میں ایک تعزیتی جلسہ بمقام ایڈمنسٹریشن بلاک خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کیمپس روضہ بزرگ گلبرگہ 13دسمبر 2024 بوقت دوپہر 3 بجے ایک یادگار تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا ۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ حضرت خسرو حسینی علیہ الرحمہ اپنی ذات میں انجمن تھے ۔وہ بیک وقت شاعر،ادیب ،محقق ،صوفی اور ماہر تعلیمات تھے وہیں وہ ایک بہترین منتظم تھے ۔جلسہ تعزیت کا آغاز مولانا حافظ روشن خان امام مسجد درگاہ شریف کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔سید اکبر حسینی اسکول کے طلبہ نے نعت شریف پیش کی ۔حضرت خسرو حسینی کی نعت شریف کملی والے کو ان کے پوتے حضرت سید عالم حسینی اور ان کی پوتی بی بی فاریا نے دلکش آواز میں پیش کیا۔بعد ازاں حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی کی حیات مبارکہ پر ایک پر اثر ڈاکیو منٹری پیش کی گئی جس میں چھوٹی ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی کی حیات مبارکہ اور ان کے افکار کوپیش کیا گیا۔پروفیسر نشاط عارف حسینی ڈین فیکلٹی آف آرٹس ،سائنسز،سوشل سائنسز ،ہیومینٹیز ،آرٹس ،لینگویجز ،لا اور ایجوکیشن نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔انھوں نے حضرت ڈاکٹر خسرو حسینی صاحب قبلہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی علمی و ادبی ،و رحانی خدمات کا تذکرہ کیا۔انھوں نے حضرت قبلہ مرحوم و مغفور کی صوفیانہ خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب این میری شیمل جو معروف ماہر مستشرق ہیں نے درگاہ کا جب دورہ کیا تو انھوں نے حضرت قبلہ سے ملاقات کی اور انھوں نے کہا کہ میں ان کی عبقری شخصیت سے کافی متاثر ہوئی ۔خطبہ استقبالیہ کے بعد مہمانوں کی خدمت میں مومنٹوز پیش کیے گئے۔ڈاکٹر زیبا پروین پرنسپال بی بی رضا ڈگری کالج نے اس موقع پر اپنی یادوں کو مجتمع کرتے ہوئے حضرت خسرو حسینی صاحب قبلہ کو انسانیت کو بچانے والی شخصیت قرار دیا۔مسٹر سیشل نموشی رکن قانون سا ز کونسل وصدر نشین ایچ کے ای سوسائٹی گلبرگہ نے کہا کہ حضرت خسرو حسینی صاحب ایک عظیم روحانی قائد تھے اور کے بی این یونیورسٹی کے پہلے چانسلر تھے ۔ان کے دور میں بے شمار ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔پروفیسر نرنجن نشٹی سابق وائس چانسلر شرن بسویشور یونیورسٹی نے کہا کہ میں صرف ایک مرتبہ حضرت خسرو حسینی صاحب سے ملاقات کیا ہوں اور ایک ہی ملاقات میں میں ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوگیا ۔پروفیسر سلیمان صدیقی صاحب سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ گوگل سے مدد لیتے تھے مگر وہ میری نظر میں خود گوگل سے بھی بڑھ کر تھے ۔وہ علم کا سمندر تھے۔ وہ سچے عاشق رسول ﷺ تھے ۔ان کا عمل اور ان کی زندگی دونوں ایک دوسرے کا عکس تھے۔تقدس مآب حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ ہم پچھلے چار گھنٹوں سے تقدس مآب حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب کی یاد مناتے ہوئے انھیں تعزیت پیش کررہے ہیں اور جمع ہوئے ہیں ۔ہم یہاں کافی دل گرفتہ ہوکر یہاں جمع ہوئے ہیں اور سابق چانسلر کے بی این یونیورسٹی کی حیات مبارکہ کو یاد کر رہے ہیں۔بہ حیثیت فرزند مجھے نہ صرف ان کے خیال و فکر سے لگائو تھا بلکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ میرے روحانی استاد تھے ۔میرے والد حقیقی معنوں میں رسول اللہ ﷺ کے سچے عاشق تھے اور پوری زندگی سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے گذاری۔انھوں نے حضرت خسرو حسینی صاحب کی نعت کا ایک شعر جس کا مصرعہ’’نہ تو تخت و تاج کی جستجو نہ تو مال و زر کی تلاش ہے‘‘ پیش کیا۔ مریدین و معتقدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔