حضورآباد ضمنی انتخاب : 86.40 فیصد رائے دہی

   

حیدرآباد ۔ 30 اکٹوبر (سیاست نیوز) حضورآباد کے ضمنی انتخاب میں ریکارڈ سطح پر 86.40 فیصدرائے دہی ہوئی ہے۔ تمام رائے دہندوں نے ٹی آر ایس، بی جے پی اور کانگریس کے بشمول جملہ 30 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند کردیا ہے۔ 2 نومبر کو نتائج جاری ہوں گے۔ ملک بھر میں تین لوک سبھا اور 29 اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کیلئے آج رائے دہی ہوئی ہے۔ سارے ملک میں اسمبلی حلقہ حضورآباد موضوع بحث رہا ہے جہاں پر ٹی آر ایس اور بی جے پی نے وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے انتخابی مہم چلائی اور یہ بھی کہا جارہا ہیکہ یہ ملک کا سب سے مہنگا الیکشن ہے۔ سب سے زیادہ رائے دہی بھی یہیں پر ریکارڈ ہوئی ہے۔ آج صبح سے ہی رائے دہندے حق رائے دہی کیلئے پولنگ اسٹیشن پہنچ رہے تھے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپ ہوگئی۔ پولنگ مراکز پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں تکنیکی خرابی سے گھنٹہ دیڑھ گھنٹہ تک رائے دہی کا عمل موقوف رہا ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے قائدین اور کارکنوں نے ایک دوسرے پر رائے دہندوں میں نقد رقم تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پارٹی کے غیرمقامی قائدین کو حلقہ اسمبلی حضورآباد میں داخل ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔
چیف الیکٹورل آفیسر شنشانک گوئل نے بتایا کہ 306 پولنگ مراکز میں پرامن رائے دہی ہوئی ہے۔ ابھی تک الیکشن کمیشن کو 88 شکایتیں وصول ہوئی ہیں۔ انتخابی مبصرین ان شکایتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر شکایتوں میں سچائی پائی گئی تو ضمنی انتخاب کے بعد بھی کارروائی ہوگی۔ کملاپور منڈل میں بی جے پی اور ٹی آر ایس کے کارکنوں کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ پولیس نے ہلکی سی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کردیا۔ حضورآباد کے ہمت نگر پر واقع ہائی اسکول کے پولنگ اسٹیشن پہنچنے پر بی جے پی کے قائد سابق صدرنشین ضلع پریشد کریم نگر ٹی اوما کو ٹی آر ایس کے کارکنوں نے روک دیا۔ ٹی آر ایس کے امیدوار جی سرینواس یادو اپنی شریک حیات کے ساتھ ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نکلتے ہوئے اپنی والدہ کے پاؤں چھوکر آشیرواد لیا۔ اس کے بعد پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ووٹ دیا۔ بی جے پی کے امیدوار ایٹالہ راجندر اپنی شریک حیات کے ساتھ پہنچ کر ووٹ دیا۔ حضورآباد میں کئی مقامات پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا جس سے حالت کشیدہ ہوگئی۔