بی جے پی کو فرقہ وارانہ سیاست سے روکنے چیف منسٹر کی کامیاب حکمت عملی، سروے میں اقلیتیں ٹی آر ایس کے ساتھ
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس بظاہر دلت رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے تاہم پارٹی نے دیگر پسماندہ طبقات بشمول اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے خاموشی سے مہم جاری رکھی ہے۔ حضورآباد کے رائے دہندوں کی اکثریت چونکہ دلت طبقہ سے ہے لہذا پارٹی نے بی جے پی کی مہم کا مقابلہ کرنے کیلئے دلت بندھو اسکیم کے حلقہ سے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزراء کے ایشور اور جی کملاکر کو مستقل طور پر حضورآباد میں دلت طبقات میں سرگرم رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں مہم کی ذمہ داری وزیر فینانس ہریش راؤ کو دی گئی ہے جو مقامی مسلم قائدین اور دیگر اقلیتی طبقات کے نمائندوں سے ربط میں ہیں۔ ٹی آر ایس کی مہم سے بظاہر یہ تاثر مل رہا ہے کہ پارٹی کو صرف دلت رائے دہندوں کی فکر ہے لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے یہ حکمت عملی طئے کی گئی۔ اگر اقلیتی قائدین بالخصوص مسلم قائدین کو دیگر علاقوں سے مہم کیلئے طلب کیا جاتا ہے تو اس سے بی جے پی کو اکثریتی طبقہ کے ووٹ متحد کرنے میں مدد ملے گی لہذا چیف منسٹر نے ہریش راؤ کو مسلم رائے دہندوں سے ربط قائم کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد تقریباً 8000 بتائی جاتی ہے ان میں سے عام طور پر رائے دہی کا فیصد 30 سے زائد نہیں لہذا پارٹی نے 2 تا 3 ہزار مسلم ووٹ کیلئے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے جلسوں یا مسلم قائدین کے دوروں سے گریز کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بی جے پی کو ہندو مسلم سیاست کرنے سے روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کو تمام طبقات سے متعلق سروے رپورٹ پیش کردی گئی جس میں حضور آباد کے مسلم نمائندوں نے ٹی آر ایس کی تائید کا یقین دلایا ہے۔ انٹلیجنس کے علاوہ بعض خانگی ایجنسیوں کے ذریعہ سروے کرایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک راجندر ٹی آر ایس میں تھے اقلیتی رائے دہندے ان کی تائید میں رہے لیکن بی جے پی میں شمولیت کے بعد اقلیتوں نے ٹی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بی جے پی کو مذہب کے نام پر سیاست کرنے سے روکنے اور حضور آباد کے موجودہ ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے سے بچانے کیلئے وزیر داخلہ محمود علی اور پارٹی کے مسلم ارکان مقننہ کو حضورآباد کے دورہ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش راؤ سے مسلم قائدین نے حضورآباد کا دورہ کرنے کی اجازت طلب کی لیکن چیف منسٹر سے مشاورت کے بعد انہوں نے مسلم قائدین کو حلقہ کا دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔