ٹی آر ایس ، بی جے پی اور کانگریس کے متوقع امیدواروں کا بی سی طبقہ سے تعلق ، رائے دہندوں کو راغب کرنے سبھی پارٹی کوشاں
حضورآباد ۔(مجاہد خان کی رپورٹ )حضورآباد ضمنی انتخابات کیلئے کافی زوروں سے مہم چل رہی ہے جب کہ ابھی اس کا اعلامیہ کا اعلان باقی ہے تینوں پارٹیاں ۔ٹی آریس،بی جے پی،کانگریس جدوجہد میں مصروف ہیں جب کہ حکمراں جماعت سے پارٹی امیدوار کا نام نامزد ہوچکا ہے وینی ونکا منڈل کے ہمت نگر علاقہ سے نوجوان طلباء یونین جو کہ یادو بی سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں کے سی آر و کے ٹی آر کے قریبی رفیق ہیں گلو سرینیواس جو تحریک تلنگانہ میں کافی جدوجہد کئی بار تحریک تلنگانہ کے لئے پولیس کے ظلم زیادتی سہے دوسری طرف بی جے پی جو کہ سابق میں اس علاقہ سے کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس سابق وزیر ایٹالہ جو تحریک تلنگانہ میں ابھر کر سامنے آے اور کچھ اراضیوںکے سلسلہ میں انہیں وزارت سے ہٹانے کے بعد ٹی آر یس کو خیر باد کرکے بی جے پی میں شمو لیت اختیار کی ایٹلہ راجندر جو کہ اس علاقہ سے تقریباََ چھے دہوں سے نمائندگی کررہے ہیں امید ہے کہ وہ بی جے پی سے امیدوار ہوسکتے ہیں یا انکی اہلیہ جمنا ریڈی امیدوار بن سکتی ہیں کیونکہ درمیان میں کچھ اشاروں سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ بھی امیدوار بن سکتی ہیں وہ اونچی ذات سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ان کے نام کی قطیعت پر تشویش ہے تیسری طرف کانگریس ان کے امیدوار کے نام پر کچھ فیصلہ نہی ہوا سابق میں پڈی کوشک ریڈی اس علاقہ سے نمائندگی کرتے تھے لیکن وہ حال میں کانگریس پارٹی سے مستعفی ہو کرٹی آر یس میں شامل ہوچکے ہیں انہیں گورنر کے کوٹہمیں یم یل سی کے لئے نامزد کیا گیا ۔اس لئے پرکال علاقہ سے تعلق رکھنے والی کانگریس کی قدآور شخصیت کنڈہ سریکھا جو کہ سابق کانگریس وائی یس راج شیکھر ریڈی کی حکومت میں وزیر رہ چکی ہیں جو کہ بی سی طبقہ شالہ سے تعلق رکھتی ہیں ان کا نام تجویز میں آیا کچھ باوثوق ذرایع سے بات سامنے آرہی ہے کہ کانگریس کے متوقع امیدوار ہونگی لیکن یہ اس علاقہ کی نہیں ہیں صرف کملا پور کے کچھ مواضعات پرکال سے قریب ہیں نان لوکل کی بات سامنے آرہی ہے۔تینوں امیدواران کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے یہاںکی آبادی بی سی طبقہ کی زیادہ ہے اس لئے تمام پارٹیاں بی سی قائید کو آزمارہے ہیں تاکہ انہیں کامیابی ملے ،فی الوقت حضورآباد میںانتخابی سرگرمیاں عروج پر ہے ادھر حکمراں پارٹی اس علاقہ کے تمام ووٹرس کو اپنی طرف لبھانے میں مصروف ہیں تمام قومی سنگھموں کو قریب کرنے کی کوشش میں ہے ویسے تقریباََ اس علاقہ کے زیادہ تر سرپنچ مونسپل چیرپرسنس،و وارڑ کونسلرس ضلع پریشد ممبران زرعی مارکٹ کمیٹی کے چیرپرسنس،و ڈائرکٹرس کا حکمران جماعت سے تعلق ہے اور حال ہی میں دلت بندھو کا اعلان کرکے یس سی طبقہ کو اپنی طرف راغب کرنے کی تجویز ایک حد تک کامیاب ہوئی کیونکہ حال ہی میں اسی علاقہ سے دلت بندھو کا باقاعدہ آغاز ریاستی وزیر اعلی کے ہاتھوں عمل میں آیا اس سے یس سی طبقہ کے ووٹرس حکمران جماعت کی طرف آنے کی قوی امید ہے ادھر بی جے پی جو دیگر علاقوں میں کچھ ایسے نعروں سے جو مسلمان اور دلتوں کی دل دل آزاری ہوئی تھی ۔ان نعروں سے پرہیز کر رہی ہیں بلکہ صرف پارٹی بی جے پی کی نظر آرہی ہے اورنعرے عزت نفس کے لگ رہے ہیں اور صرف سابق وزیر ایٹلہ راجندر کی شخصیت کو سامنے لایا جارہا ہے اور مرکز سے کوئی بھی بڑے قائید کو یہاں نہیں بلایا جارہا ہے ۔کانگریس کے لئے بھی یہ ضمنی انتخابات ایک امتحان کی گھڑی ہے تلنگانہ میں کانگریس کی قیادت کی تبدیلی یعنی ریونت ریڈی کی قیادت میں یہاں سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن کافی عرصہ سے اس علاقہ میں کانگریس کامیاب نہیں ہوی سابق میں وی۔راجیشور رائو جو کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہارائو کے رشتہ دار ہیں انہوں نے کامیابی کانگریس پارٹی سے حاصل کی تھی اس کے بعد سے کوئی بھی کانگریسی قائید یہاں سے کامیاب نہیں ہوا،اگر اب کے بار کامیاب ہوا تو ایک نئی تاریخ رقم کی جاے گی بہر حال حضورآباد پر سب کی نظریں ہیں ۔کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی سامنے آرہا ہے کہ اس حکومت کے اب صرف دو ڈھائی یا اس سے کم عرصہ ہے اس درمیان میں کچھ بھی فلاح وبہبودی نہی ہوگی اس لئے سابق وزیر ایٹلہ راجندر کو کامیاب کیا جائے تو حکمراں جماعت کو سبق حاصل ہوگا دوسری طرف کچھ لوگ یہ بھی خیال کررہے ہیں کہ اس بار قیادت میں تبدیلی لائی جاے کافی عرصہ سے پرانا ریکارڈ چل رہا ہے اس بار تبدیلی کے خواہاں ہے ایک نئے ابھرتے قائید کو لانے کی کوشش میں ہے اگے دیکھنا حضورآباد کی عوام کس کو کامیابی سہرا باندھتی ہے فی الوقت حضورآباد میں کچھ کام قبل از وقت انجام دئے جارہے ہیں حکمراں جماعت وحزب اختلاف دونوں میں لفظی سرد جنگ چل رہی ہے روزانہ ٹی آر یس۔وبی جے پی کی میٹنگیں منعقد ہورہی ہے حکمراں جماعت کے وزراء اور پارٹی قائیدین عوام سے فرداَفرداََ ملاقاتیں کررہی ہیں اور فلاح وبہبودی کے کاموں کو سامنے رکھ کر وئوٹ مانگ رہے ہیں ،دوسری طرف بی جے پی قائید۔ایٹلہ راجندر آتما گورم عزت و احترام پر کامیابی حاصل کرنے کی جستجو میں لگے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ اس علاقہ میں جو عوامی کام ہورہے ہیں میرے استعفی کی وجہ سے ہی ہے حکمران جماعت کے وعدہ صرف نام کے ہیں اگر اس علاقہ سے محبت ہے تو جو آج کررہے ہیں اس سے قبل کیوں نہیں کئے گئے آج یہ تمام کامیں یاد آرہے ہیں ۔انہیں یقین ہے کہ وہ ناکام ہونگے یہ میرا علاقہ ہے یہاں کے عوام کا بیٹا ہوں ہر جگہ مجھے عزت واحترام سے استقبال کیا جارہا ہے یہاںکی ماں بیٹیاں میرے استقبال میں پھول مالائوں اور چراغوں سے میرا استقبال کررہی ہے اس علاقہ سے میں کامیاب ہونگا۔اس وقت یہاں کافی سرگرمیاں ہیں صبح وشام انتخابی نعروں وانتخابی موسقیوں سے سارا علاقہ گونج رہا ہے آخر کامیابی کس کو حاصل ہوگی کچھ دنوں میں سامنے آئیگا،جس سے جیتا وہی ہوگا سکندر ۔
