کانگریس سیاسی ٹورنمنٹ سے باہر، 7 برسوں میں 4 ضمنی چناؤ، بی جے پی نے 2 نشستیں چھین لی
حیدرآباد۔/2نومبر، ( سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ کے قیام کے بعد 7 برسوں میں اگرچہ 4 اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناؤ منعقد ہوئے لیکن حضورآباد کا الیکشن نہ صرف ریاست بلکہ مرکزی حکومت کی توجہ کا مرکز رہا کیونکہ اصل مقابلہ اُن پارٹیوں کے درمیان تھا جو مرکز اور ریاست میں برسراقتدار ہیں۔ ٹوئنٹی۔20 ورلڈ کپ مقابلیایک طرف نوجوانوں میں دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں لیکن حضورآباد کا مقابلہ بھی ٹی آر ایس اور بی جے پی کیلئے ٹوئنٹی۔20 فائنل سے کم نہیں تھا۔ کرکٹ کی زبان میں اگر کہا جائے تو حضورآباد کی کامیابی کے ذریعہ بی جے پی نے 2-2 اسکور کے ذریعہ مقابلہ کو برابر کردیا ہے جبکہ کانگریس پارٹی ٹورنمنٹ سے خارج ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں 3 اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناؤ میں اب تک ٹی آر ایس کو 2-1 سے سبقت حاصل تھی لیکن چوتھے انتخابی میچ میں جسے فائنل بھی کہا جاسکتا ہے بی جے پی نے غیرمعمولی مظاہرہ کرتے ہوئے اسکور کو 2-2 برابر کردیا ہے۔ سوشیل میڈیا میں ٹوئنٹی20- ورلڈ کپ کے پس منظر میں اسپورٹس کی زبان میں حضورآباد نتیجہ پر تبصرے کئے جارہے ہیں۔ حضورآباد سے قبل حضورنگر، دوباک اور ناگر جنا ساگر میں ضمنی چناؤ ہوئے تھے لیکن حضورنگر اور ناگر جنا ساگر میں ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی جے پی نے دوباک میں کامیابی حاصل کی تھی اور کانگریس کا کھاتہ نہیں کھلا تھا۔ اکٹوبر۔ نومبر 2019 میں حضورنگر ضلع نلگنڈہ کا ضمنی چناؤ ہوا تھا اور یہ نشست اتم کمار ریڈی کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے سے خالی ہوئی تھی۔ ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو 43 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی ملی۔ دوسرا ضمنی چناؤ نومبر 2020 میں دوباک کا تھا جو ٹی آر ایس رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی کے دیہانت کے سبب ہوا ۔ بی جے پی کے رگھونندن راؤ نے یہ نشست ٹی آر ایس سے چھین لی۔ تیسرا ضمنی چناؤ مئی 2021 میں ناگرجنا ساگر کا تھا جو رکن اسمبلی این نرسمہیا کے دیہانت کے سبب ہوا۔ ٹی آر ایس نے نرسمہیا کے فرزند کو ٹکٹ دیا جبکہ کانگریس نے اس حلقہ سے سات مرتبہ منتخب ہونے والے جانا ریڈی کو امیدوار بنایا لیکن کامیابی ٹی آر ایس کے حق میں رہی اور ٹی آر ایس اپنی نشست کو بچانے میں کامیاب رہی۔ چوتھے سیاسی میچ میں ٹی ار ایس کو امید تھی کہ حضورآباد میں اسے کامیابی حاصل ہوگی لیکن ایٹالہ راجندر نے اپنی نشست کو بچالیا اور بی جے پی کے حق میں بطور تحفہ پیش کیا۔ اس طرح گزشتہ سات برسوں میں بی جے پی نے برسراقتدار ٹی آر ایس سے دو نشستیں چھین لی ہیں۔ کانگریس کو ایک بھی کامیابی نہیں ملی اور چوتھے سیاسی میچ کے بعد وہ ٹورنمنٹ سے باہر ہوچکی ہے۔ر