حضورآباد ضمنی چناؤ کے بعد ٹی آر ایس میں بغاوت کی پیش قیاسی

   

وسط مدتی انتخابات سے متعلق چیف منسٹر کا بیان مضحکہ خیز، ریونت ریڈی کا بیان
حیدرآباد 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے پیش قیاسی کی ہے کہ حضور آباد ضمنی چناؤ کے بعد ٹی آر ایس میں بغاوت ہوگی۔ پارٹی میں امکانی بغاوت کو روکنے کیلئے کے سی آر ورنگل میں وجئے گرجنا کی تیاری کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس میں اندرونی طور پر کافی ناراضگی پائی جاتی ہے اور چیف منسٹر کے طریقہ کارکردگی سے عوامی نمائندے ناراض ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر کی جانب سے وسط مدتی انتخابات کے امکانات کو مسترد کرنا خود پارٹی میں داخلی انتشار اور بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی کے داخلی حالات سے پریشان حال چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ بغاوت کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وسط مدتی انتخابات کی چیف منسٹر کی جانب سے تردید مضحکہ خیز ہے۔ الیکشن شیڈول کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات کے درمیان 6 ماہ کا وقفہ رہے گا۔ اسمبلی انتخابات کے 6 ماہ بعد لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ ہریش راؤ کو پارٹی سے باہر کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور حضورآباد کے نتائج پر اِس کا انحصار ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی حلقوں میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے خفیہ مفاہمت کے ذریعہ گجرات اور تلنگانہ اسمبلی کے یکساں انتخابات سے اتفاق کیا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کی تردید کرتے ہوئے کے سی آر نے پارٹی قائدین کو نئی اُلجھن میں مبتلا کردیا۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 3 برسوں میں حکومت نے عوام کی بھلائی کے لئے کیا اقدامات کئے جس کا اظہار ورنگل کی وجئے گرجنا سبھا میں کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیاکہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی اور قومی سطح پر نریندر مودی حکومت کو شکست ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ ٹی آر ایس میں دلت قائدین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن پرچہ نامزدگی کے ادخال کے وقت ایک بھی دلت قائد کو ساتھ نہیں رکھا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کے سی آر کی مدد حاصل رہے گی۔ ر