حضورنگر میں صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی کی سیاسی سرگرمیاں

   

گورنر سے اتم کمار ریڈی کی شکایت، کانگریس قائدین میں رقومات تقسیم کرنے کا الزام
حیدرآباد۔ 27ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے گورنر ٹی سوندرا راجن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے حضورنگر اسمبلی حلقہ میں برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے سرکاری مشنری کے بے جا استعمال کی شکایت کی۔ انہوں نے صدرنشین قانون ساز کونسل کی جانب سے دستوری عہدے کے تقدس کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا اور اس سلسلہ میں سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسیوں سے رپورٹ طلب کرنے کی درخواست کی۔ اترم کمار ریڈی نے کہا کہ صدرنشین قانون ساز کمیٹی جی سکھیندر ریڈی حضورآباد میں رائے دہی اور انتخابی مہم پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست پائے گئے تو گورنر انہیں اخلاقی بنیادوں پر عہدے سے استعفیٰ دینے کی ہدایت دیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ سکھیندر ریڈی دستور کے قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضورنگر کے انتخابی عمل میں مداخلت کررہے ہیں۔ آزادی سے آج تک یہ روایت ہے کہ پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے سربراہ راست طور پر سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ تاہم جی سکھیندر ریڈی انتخابی عمل میں شامل ہوتے ہوئے عہدے کے وقار کو مجروح کررہے ہیں۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران سکھیندر ریڈی نے زیڈ پی ٹی سی رکن موتی لال نائک اور سرپنچ جتیندر ریڈی کے علاوہ حضورنگر اسمبلی حلقے کے دیگر کانگریس قائدین کو حیدرآباد میں اپنی قیامگاہ پر طلب کرتے ہوئے بھاری رقم حوالے کی اور ٹی آر ایس میں شمو لیت کی ترغیب دی۔ وہ کھلے عام اس بات کا دعوی کررہے ہیں کہ چیف منسٹر نے حضورنگر میں ٹی آر ایس کی کامیابی کی صورت میں ملاریڈی اور جگدیش ریڈی کی جگہ انہیں کابینہ میں شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھیندر ریڈی دستوری عہدے کے احترام کو فراموش کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی کامیابی کی مساعی کررہے ہیں۔ گورنر کو شکایت کی گئی کہ سکھیندر ریڈی کے فرزند امیت ریڈی سرکاری کنٹراکٹر کی حیثیت سے بھاری رقومات خرچ کررہے ہیں۔ گلوبل ٹینڈرس کے بغیر امیت ریڈی کو کئی بڑے پراجیکٹس الاٹ کیے گئے۔ اتم کمار ریڈی نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ حضور نگر میں صدرنشین قانون ساز کونسل کی انتخابی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جاسکے۔