حیدرآباد۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے عوام سے اپیل کی کہ حضورنگر میں ٹی آر ایس کو شکست دے کر جمہوریت کو کامیاب کریں۔ بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چھ برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کو قرض میں ڈبودیا ہے۔ مختلف اسکیمات کے نام پر بے دریغ قرض حاصل کیا گیا جو بڑھ کر 2 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زائد قرض کے حصول سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن معاشی ابتر صورتحال کے سبب فلاحی اسکیمات پر عمل آوری نہیں کے برابر ہے۔ حکومت نے بجٹ میں کئی اہم اسکیمات کے فنڈس کو کم کردیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حضور نگر کے رائے دہندے باشعور ہیں اور وہ ٹی آر ایس کی سازش کا شکار نہیں ہوں گے۔ چیف منسٹر نے اپنی ساری کابینہ کو حضورنگر میں انتخابی مہم سے جوڑدیا ہے۔ ارکان اسمبلی اور کونسل سرکاری مشنری کا بے جا استعمال اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی راما رائو نے انتخابی مہم کی کمان سنبھالی اور بائیں بازو جماعتوں سے تائید کی اپیل اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی آر ایس شکست کے خوف میں ہے اور وہ کسی بھی صورت میں غیر جمہوری طریقے اختیار کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔