حضورنگر میں کانگریس کی کامیابی جمہوریت کا استحکام: ملوروی

   

انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی پر تمام طبقات ٹی آر ایس سے ناراض
حیدرآباد۔ 26ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر ملو روی نے کہاکہ حضورنگر کے ضمنی چنائو میں کانگریس کی کامیابی جمہوریت کے استحکام اور عوام کی آواز میں اضافے کا سبب بنے گی۔ ڈاکٹر ملو روی نے عوام کے نام اپیل جاری کرتے ہوئے کانگریس امیدوار پدماوتی ریڈی کو کامیاب بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ پدماوتی ریڈی کی کامیابی اسمبلی میں عوامی آواز میں اضافہ ثابت ہوگی تاکہ حکومت سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مطالبہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 اور 2018 میں ٹی آر ایس حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں میں ایک کی بھی تکمیل نہیں کی۔ بے روزگار نوجوانوں، سرکاری ملازمین، کسانوں اور سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ دھوکہ دہی ہوئی ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو علیحدہ ریاست میں روزگار کا لالچ دیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کو ہر سال پی آر سی اور فٹ منٹ کا تیقن دیا گیا تھا۔ کسانوں کو رئیتو بیما اور رئیتو بندھو کے علاوہ قرض معافی کا وعدہ کیا گیا۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات جبکہ دلتوں کو زرعی اراضی حوالے کرنے جیسے وعدے کیے گئے تھے لیکن حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں ان وعدوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ پدماوتی ریڈی کامیابی کے بعد اسمبلی میں حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کریں گی اور وعدوں کی تکمیل کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ انہوں نے کے ٹی راما رائو کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ ٹی آر ایس کی کامیابی سے علاقے کی ترقی ہوگی۔ ملو روی نے کہا کہ ٹی آر ایس کی کامیابی دراصل ایک خاندان اقتدار کو مستحکم کرنا ہے۔ حضورنگر سے کامیابی کی صورت میں دوبارہ عوامی وعدوں کی تکمیل میں دھوکہ دہی کا موقع فراہم ہوگا۔ ملو روی نے کہاکہ حضور نگر میں ٹی آر ایس کو شکست دیتے ہوئے عوام ڈکٹیٹرشپ کے خلاف اپنا فیصلہ سناسکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی خاندانی حکمرانی اور غیر جمہوری طرز عمل کے خلاف اپنا احتجاج ووٹ کی صورت میں درج کریں۔