کانگریس مقابلے سے دستبرداری کیلئے تیار، چھ برسوں میں حضورنگر کی ترقی فراموش کرنے کا الزام
حیدرآباد۔30 ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے برسر اقتدار ٹی آر ایس کے قائدین کو چیلنج کیا کہ 2014ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے حضورنگر میں ایک بھی ترقیاتی کام کی مثال پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضورنگر میں کانگریس دور حکومت میں ترقیاتی کام انجام دیئے گئے جبکہ ٹی آر ایس نے 2014ء سے آج تک علاقے کی ترقی کو نظرانداز کردیا تھا۔ اتم کمار ریڈی نے آج سوشل میڈیا فیس بک سے براہِ راست کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹی آر ایس حضورنگر کی ترقی میں اپنی حصہ داری کو ثابت کردے تو کانگریس انتخابی مقابلہ سے دستبردار ہوجائے گی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 2009ء میں پہلی مرتبہ حضورآباد کے رکن اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے لووولٹیج کا مسئلہ حل کیا اور سڑکوں کی حالت کو بہتر بنایا۔ 12 برقی سب اسٹیشن قائم کئے گئے جبکہ 130KV کا ایک بھی سب اسٹیشن نہیں تھا۔ میٹ پلی برج 50 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کیا گیا جو دونوں ریاستوں کو جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے برج کو جوڑنے والی سڑک کی تعمیر کے لیے چھ لاکھ روپئے تک منظور نہیں کئے جس کے سبب آج تک پل کا رسمی طور پر افتتاح نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے بتایا کہ 4 ہزار مکانات کمزور طبقات کے لیے تعمیر کیے گئے۔ اتم کمار ریڈی کے مطابق 80 فیصد مکانات کانگریس دور میں مکمل ہوچکے ہیں جبکہ ٹی آر ایس حکومت گزشتہ چھ برسوں میں 20 فیصد مکانات کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ صدرپردیش کانگریس نے ٹی آر ایس پر انتقامی سیاسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت نے حضورنگر میں ایک بھی ترقیاتی کام انجام نہیں دیا۔ انہوں نے حضورنگر کے لیے ڈگری کالج منظور کرایا جبکہ طلبہ کو گریجویشن کے لیے دیگر علاقوں کا رخ کرنا پڑرہا تھا۔ انہوں نے کانگریس دورحکومت میں 100 بستروں کا ہاسپٹل قائم کیا۔ نیرڈچرلہ کوداڑ سے کھمم تک 4 لائنس سڑک بچھانے کا کام کانگریس دور میں انجام دیا گیا۔ کانگریس نے کستوربا اسکول کے علاوہ کئی اسکولوں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ وہ حضورنگر کے لیے اپنا ایک بھی کارنامہ پیش کریں۔ اتم کمار ریڈی نے حضورنگر کی ترقی پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ شکست کے خوف سے ٹی آر ایس قائدین مخدوم بھون پہنچنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے سی پی آئی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس قیادت پر بھروسہ نہ کریں اور کانگریس امیدوار کی تائید کریں تاکہ جمہوریت کا تحفظ ہو۔ تلنگانہ عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے سی پی آئی کو چاہئے کہ وہ کانگریس کی تائید کریں۔ انہوں نے تلگودیشم اور سی پی ایم سے اپیل کی کہ کانگریس کے حق میں اپنے امیدوار دستبردار کرلیں۔ انہوں نے سرکاری مشنری کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی وزراء اور برسر اقتدار پارٹی کے عوامی نمائندے انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ کانگریس کارکنوں کو پولیس کے ذریعہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ حضورنگر جو ایک پرامن حلقہ ہے، ٹی آر ایس نے وہاں خوف اور ہراسانی کا ماحول پیدا کردیا ہے۔