حضور آبادکے بینک کھاتوں میں رقم منتقلی کا جائزہ

   

ریٹرننگ آفیسر کی بینکوں کو ہدایت ، متعدد غیر کارکرد کھاتے اچانک کارکرد ہونے پر شبہات
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) حضور آباد میں موجود بینک کھاتوں میں ہونے والی رقومات کی منتقلی سے ریٹرننگ آفیسر کو واقف کروایا جائے اور ان تمام کھاتوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں جو طویل مدت تک غیر کارکرد رہنے کے بعد گذشتہ چند ماہ یا چند ہفتوں کے دوران اچانک کارکرد ہوئے ہیں۔ریٹرننگ آفیسر آر وی کرنن نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا ‘ تلنگانہ گرامین بینک‘یونین بینک آف انڈیا ‘ کے علاوہ دیگر بینکو ںکے عہدیداروں کو نوٹس روانہ کرتے ہوئے انہیں اس بات کی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے بینکوں میں موجود کھاتوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کی منتقلی یا کھاتہ سے ایک لاکھ روپئے سے زائد کی منہائی پر ریٹرننگ آفیسر کو مطلع کریں ۔انہوں نے بینک عہدیداروں کے ہمراہ منعقدہ اجلاس میں بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران حضور آباد کے بینکوں میں موجود کھاتوں میں بھاری رقومات کی منتقلی اور منہائی کے علاوہ آن لائن منتقلی کی جو سرگرمیاں ریکارڈ کی جا رہی ہیں ان پر خصوصی نظر رکھی جائے اور ان کی تمام تفصیلات انہیں فراہم کی جائیں۔بتایاجاتا ہے کہ ریٹرننگ آفیسرس کی جانب سے GPay‘Phone Pe‘ کے علاوہ دیگر ایسے پلیٹ فارمس جن کے ذریعہ رقمی منتقلی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ان پر خصوصی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے بینکوں کو جاری کی گئی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ جن کھاتہ داروں کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد کی رقم منہاء کی جا رہی ہے ان تمام کھاتہ داروں کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے اخراجات کا جائزہ لیا جاسکے۔واضح رہے کہ حضور آباد میں ضمنی انتخابات کا اعلامیہ جاری کئے جانے کے بعد اب تک 1کروڑ 27 لاکھ روپئے کی نقد رقم ضبط کی گئی ہے اسی لئے انتخابی عملہ کی جانب سے صورتحال پر باریکی سے نظر رکھنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا‘ تلنگانہ گرامین بینک کے علاوہ یونین بینک آف انڈیا کے عہدیدارو ںنے ریٹرننگ آفیسرکو ایک لاکھ سے زیادہ رقم کی منتقلی اور منہائی کی صورت میں تفصیلات کی فراہمی پر اتفاق کرلیا ہے ۔ریٹرننگ آفیسر نے بینک عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کھاتوں پر زیادہ توجہ مرکوز کریں جو کہ طویل مدت تک غیر کارکرد رہنے کے بعد انتخابات کے امکانات کے ساتھ ہی متحرک ہوچکے ہیں اور ان کھاتوں میں رقمی منتقلی ہورہی ہے۔م