حضور آباد: بدلہ کی سیاست کے مقابلہ کارکردگی اور عوامی خدمات کی جیت

   

بی جے پی کی نہیں بلکہ راجندر کی شخصی کامیابی،دلت بندھو اسکیم بے اثر، دھان کی فصل روکنے کا فیصلہ نقصاندہ
حیدرآباد۔/2نومبر، ( سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر کی کامیابی توقع کے عین مطابق رہی اور برسراقتدار ٹی آر ایس کے تمام حربے رائے دہندوں پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ جون میں کے سی آر سے اختلافات کے بعد ایٹالہ راجندر کو وزارت سے برطرف کردیا گیا جس کے بعد انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔ راجندر نے اپنے سیاسی مستقبل کے تحفظ کیلئے وسیع تر مشاورت کے بعد بی جے پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور شمولیت کے بعد سے ہی عملاً انتخابی مہم شروع کردی تھی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے لئے یہ ضمنی چناؤ وقار کا مسئلہ بن چکا تھا اور انہوں نے شخصی طور پر انتخابی مہم اور حکمت عملی کی نگرانی کی۔ وزیر فینانس ہریش راؤ کو انتخابی مہم کی کمان سونپی گئی اور چیف منسٹر کے ماسواء تمام وزراء اور عوامی نمائندے حضورآباد میں سرگرم رہے۔ انتخابی نتیجہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ دلت بندھو اسکیم نے ٹی آر ایس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ زرعی شعبہ کیلئے رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات بے اثر ثابت ہوئیں۔ آسرا پنشن اور دیگر فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان نے بھی ٹی آر ایس کے مقابلہ راجندر کو ترجیح دی۔ بتایا جاتا ہے کہ کسانوں کو دھان کی فصل سے روکنے سے متعلق حکومت کا فیصلہ زرعی شعبہ کی ناراضگی کا سبب بنا اور بی جے پی نے اس مسئلہ کو اپنے فائدہ کیلئے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ ٹی آر ایس کو شہری علاقوں کے مقابلہ دیہی علاقوں میں عوامی تائید کی امید تھی لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی۔ حضورآباد کی جیت کو بی جے پی قائدین پارٹی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایٹالہ راجندر کی شخصیت کی کامیابی ہے۔ عوامی خدمات کے سبب انہیں رائے دہندوں کی غیر معمولی ہمدردی حاصل ہوئی اور سیاسی مستقبل تاریک کرنے کے چیف منسٹر کے منصوبہ پر عوام نے پانی پھیر دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ راجندر کی کامیابی دراصل بدلہ کی سیاست کے مقابلہ کارکردگی اور عوامی خدمات کی جیت ہے۔ کئی ایسے علاقے جو ٹی آر ایس کے گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں بھی راجندر کو اکثریت حاصل ہوئی۔ ریاستی وزراء جون سے حضورآباد میں متحرک تھے اور رکن پارلیمنٹ کیپٹن لکشمی کانت راؤ کا حلقہ میں غیر معمولی اثر ہے باوجود اس کے رائے دہندوں نے ایٹالہ راجندر کی جذباتی اپیلوں پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ پیام دیا ہے کہ انہیں بی جے پی نہیں بلکہ خدمت کرنے والے راجندر کی ضرورت ہے۔ ضمنی انتخابات کی تاریخ میں حضورآباد سب سے زیادہ مہنگا الیکشن ثابت ہوا۔ برسراقتدار پارٹی کی جانب سے رقومات کی تقسیم کا کوئی شمار نہیں ہے لیکن رائے دہندوں نے رقم حاصل کرنے کے باوجود راجندر کو ووٹ دے کر یہ ثابت کردیا کہ اُن کی وابستگی اور ہمدردی رقم سے زیادہ راجندر کے ساتھ ہے۔ر