کے سی آر، دوسری جماعت کے قائدین کو بازار کے سامان کی طرح خریدرہے ہیں
حضورآباد ۔ سابق ریاستی وزیروقائد بھارتیہ جنتا پارٹی ایٹالہ راجندر نے ودیانگر حضورآباد میں اخباری نمائندوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ اسمبلی حضورآباد حق کی جانب ہے اور پوری طرح میری تائید میں ہے۔ حضورآباد کو ضلع تشکیل دیا جائے واویلالہ ، چلپور کو منڈل کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اپنی ذاتی پارٹی کے لئے دوسری جماعت کے قائدین کو بازار کے سامان کی طرح خرید رہے ہیں۔ طبقوں کے سربراہان کو سیدھے رنگا نائیکا گیسٹ ہاوز لے جاکر وہاں ہریش راؤ کے ذریعہ بولی لگائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ فرضی ووٹوں کا اندراج کیا جارہا ہے جو اس حلقہ اسمبلی کے نہیں ہیں، ان لوگوں بھی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے۔ مجھ کو آنے والے ووٹوں کو متاثر کیا جارہا ہے ۔حضورآباد چیرمین کے گھر پر 34 ووٹ اور دوسرے ایک اور قائد کے گھر پر 41 ووٹ اندراج کئے گئے ہیں۔ اس کی عہدہ دار اور الیکشن کمیشن کو شکایت پیش کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی حضورآباد کے مواضعات کے سی آر کے مخالف ہیں، میرا والہانہ استقبال کیا جارہا ہے۔ دوران تلنگانہ تحریک کئی عظیم قائدین کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا گیا۔ اس وقت لوگوں نے تلنگانہ کے حصول کے لئے خاموشی اختیار کی مگر اب معاف نہیں کیا جائیگا، بے عزتی کا بدلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میناریٹی کرسچن برادری کے لوگ بھی میری تائید میں ہیں۔ یہ الیکشن کے سی آر اور ایٹالہ راجندر کے درمیان ہوگا اور حق کی کامیابی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام مجھ کو یہ تیقن دے رہے ہیںکہ وہ لوگ ووٹ کو ایک لاکھ بھی دیں تو وہ ووٹ ایٹالہ راجندر کو ہی ڈالیں گے۔ کملا پور منڈل کے موضع بتنی وانی پلی سے پد یاترا دو چار دنوں میں شروع کی جائے گی جو 350 کیلو میٹر پر مشتمل ہوگی۔