حضور آباد میں آج ووٹوں کی گنتی،دفعہ 144 کا نفاذ

   

صبح 8 بجے سے رائے شماری، دوپہر تک نتیجہ کا امکان، ٹی آر ایس اور بی جے پی دونوں ہی پرُامید
حیدرآباد۔یکم ۔نومبر (سیاست نیوز) حضور آباد ضمنی چناؤ کے نتیجہ پر سیاسی حلقوں میں جاری تجسس کل 2 نومبر کو ختم ہوجائے گا ۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی قائدین اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن رائے دہی کے ریکارڈ فیصد 86.25 کو دیکھتے ہوئے امیدواروں اور قائدین کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوچکی ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے جاری کردہ ایگزٹ پول کے نتائج میں امیدواروں اور پارٹیوں کی الجھن میں اضافہ کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کل 2 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر شیشانگ گوئل نے ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیداروں سے انتظامات کے سلسلہ میں بات چیت کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رائے شماری کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر احتیاطی اقدامات کئے گئے ۔ رائے شماری میں موجود رہنے والے عہدیداروں کیلئے خصوصی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے کریم نگر کے ایس آر آر ڈگری کالج میں شروع ہوگی۔ توقع ہے کہ 11 بجے تک واضح صورتحال منظر عام پر آجائے گی ۔ پوسٹل بیالٹ جن کی تعداد 753 ہے، ان کی پہلے گنتی ہوگی اور 30 منٹ میں یہ کارروائی مکمل کرلی جائے گی جس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو کھولا جائے گا ۔ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ بعض آزاد امیدواروں نے رائے شماری کے دوران اپنے ایجنٹس کو مقرر کیا ہے ۔ حضور آباد میں جملہ رائے دہندوں کی تعداد 236873 ہے جن میں سے 202361 رائے دہندوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ حضور آباد میں اب تک کی یہ سب سے زیادہ رائے دہی رہی اور گزشتہ چار انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ 2018 ء میں 84.42 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔ حلقہ میں خاتون رائے دہندوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے لیکن مردوں کی رائے دہی 87.05 فیصد اور خواتین کی 87.25 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رائے شماری کے مرکز پر کورونا قواعد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتظامات کئے گئے ہیں۔ حکام نے رائے شماری کے مرکز کے اطراف دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات جاری کردیئے جس کے تحت 5 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی رہے گی۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رائے شماری مرکز میں داخلہ کی اجازت نہیں رہے گی ۔ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائینس کے مطابق کامیابی کے بعد ریالیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی کیلئے دو بڑے ہال منتخب کئے گئے ہیں اور ہر ہال میں 7 ٹیبل لگائے گئے۔ توقع ہے کہ 22 راؤنڈ کی رائے شماری دوپہر تک مکمل ہوجائے گی۔ 30 اکتوبر کو منعقدہ رائے دہی میں عوام نے 30 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر رائے دہی کے دوران دھاندلیوں اور رائے دہندوں میں بھاری رقومات کی تقسیم کا الزام عائد کیا ہے ۔ کریم نگر اور ہنمکنڈہ دونوں اضلاع میں زائد پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جاسکے ۔ کمشنر پولیس کریم نگر وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ رائے شماری کے مرکز اور اطراف پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ر