حضور آباد میں ایٹالہ راجندر کیلئے آر ایس ایس ڈھال بن گئی

   

قومی جذبہ رکھنے والے نوجوان لڑکے و لڑکیوں کا انتخاب ، ہر 10 خاندان کے لیے ایک انچارج نامزد کیا گیا
حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے سینئیر قائد ایٹالہ راجندر کے استعفیٰ کے بعد ان کے ساتھ رہنے والے قائدین ایک ایک کر کے ان سے دور ہوگئے ۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ میدان سنبھالتے ہوئے اپنے کیڈر کو پوری طرح ٹی آر ایس کی طرف کرلیا ۔ ایک موقع پر ایٹالہ راجندر تنہا ہوگئے تھے ۔ ایسے موقع پر سنگھ پریوار ایٹالہ راجندر کے لیے ڈھال بن گیا ۔ آر ایس ایس نے حضور آباد کے ضمنی انتخاب کو چیلنج کی طرح قبول کیا ۔ ریاست کے مختلف علاقوں سے بڑے پیمانے پر تجربہ کار اور تربیت یافتہ کارکنوں کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں حضور آباد کے ضمنی انتخاب میں اتار دیا وہ اسمبلی حلقہ کے تمام گاؤں میں پھیل گئے ۔ قومی جذبہ رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کے ارکان خاندان سے خوشگوار تعلقات استوار کرتے ہوئے انہیں بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے رضا مند کرلیا ۔ اس کے علاوہ ملک کے موجودہ حالت اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور فلاحی اسکیمات سے ہر رائے دہندے کو واقف کرایا گیا ۔ ہر خاندان سے رائے دہی تک کم از کم تین مرتبہ ملاقات کی اور بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ ہر گاؤں میں 10 خاندانوں کے لیے ایک انچارج نامزد کیا گیا ہر دن ان سے رابطہ میں رہتے ہوئے حکمران جماعت ٹی آر ایس سے قریب ہونے نہیں دیا ۔ فہرست رائے دہندگان کے ہر صفحہ کے لیے ایک کمیٹی کا انتخاب کیا گیا ۔ اس کمیٹی کے ارکان اپنے حدود میں موجود تمام رائے دہندوں سے ملاقات کرتے رہے ۔ انہیں پولنگ اسٹیشن تک پہونچانے اور بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنے میں اہم ذمہ داری نبھائی ۔ ماضی میں آر ایس ایس ، سنگھ پریوار ، اے بی وی پی میں کام کر کے دور ہونے والے کارکنوں کو دوبارہ متحد کرتے ہوئے ان کی خدمات سے ایٹالہ راجندر کو کامیاب بنانے کی کامیاب حکمت عملی تیار کی گئی ۔ رائے دہی کے دن بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی خدمات سے استفادہ کیا گیا کہیں بھی انتخابی بے قاعدگیاں ہونے کی اطلاع ملنے پر انہیں وہاں فوری پہونچ کر بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔۔ ن