حضور آباد میں دولت اور طاقت کے استعمال کو روکا جائے

   

الیکشن کمیشن سے کانگریس کی درخواست، ریاستی وزراء علاقہ میں سرگرم
حیدرآباد۔29 ۔جولائی (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ حضور آباد اسمبلی حلقہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے اقتدار کے بیجا استعمال کو روکنے کے اقدامات کرے۔ پارٹی نے کہا کہ کووڈ قواعد کی پرواہ کئے بغیر برسر اقتدار پارٹی جلسوں کا اہتمام کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے نائب صدر جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی دوسری وباء ابھی ختم نہیں ہوئی اور ماہرین نے تیسری وباء کے امکانات ظاہر کئے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ برخلاف اس کے ٹی آر ایس حکومت حضور آباد میں کامیابی کیلئے دولت اور طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے ۔ کووڈ قواعد کی خلاف ورزی عوام کی زندگی کو خطرہ پیدا کرسکتی ہے ۔ کورونا سے نمٹنے پر توجہ دینے کے بجائے حکومت نے اپنی ساری توجہ حضور آباد پر مرکوز کردی ہے۔ چیف منسٹر سے لے کر تمام وزراء کو صرف حضور آباد کی فکر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دلتوںکی بھلائی کیلئے اعلان کردہ نئی اسکیم کا کانگریس خیرمقدم کرتی ہے لیکن حضور آباد سے اسکیم کا آغاز کرنا کے سی آر کے سیاسی عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد کے بجائے تمام اسمبلی حلقوں میں بیک وقت اسکیم کا آغاز کیا جائے ۔ چیف منسٹر نے حضور آباد سے تعلق رکھنے والے دلت نمائندوں کو پرگتی بھون مدعو کرتے ہوئے پارٹی کی انتخابی مہم چلائی ہے۔ نرنجن نے الیکشن کمیشن ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کھلے عام یہ اعتراف کیا کہ حضور آباد میں سیاسی فائدہ کیلئے اسکیم شروع کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے اس بیان کے خلاف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ کئی ریاستی وزراء اسکیمات کا حضور آباد سے آغاز کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ تلنگانہ این جی اوز اسوسی ایشن نے کریم نگر ضلع میں جلسوں کے انعقاد کے ذریعہ حکومت سے اظہار تشکر کا فیصلہ کیا ہے۔