حضور آباد میں رائے دہندے تین شفٹ میں مصروف، ہر پارٹی کو چار گھنٹے

   

انتخابی مہم سے خاطر خواہ آمدنی ، گروپ لیڈرس کے پاس بکنگ، مہم میں شریک قائدین کو دلچسپ تجربہ
حیدرآباد۔21 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) حضور آباد ضمنی چناؤ ملک بھر کے لئے انفرادی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ انتخابی مہم میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے رائے دہندوں میں دولت اور شراب کی تقسیم کوئی نئی بات نہیں لیکن حضور آباد ضمنی چناؤ کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھ چکی ہے کیونکہ یہ الیکشن ٹی آر ایس اور بی جے پی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ دونوں پارٹیاں کامیابی کیلئے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے اور انتخابی مہم میں مصروف قائدین کے مطابق آج تک اس طرح کی انتخابی مہم دیکھنے کو نہیں ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی مجبوری کا رائے دہندوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ۔ حکومت کی اسکیمات یا عوامی مسائل کے بجائے رائے دہندوں کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ کس پارٹی کا کہاں پروگرام ہے جہاں سے انہیں آمدنی ہوسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ حلقہ میں رائے دہندے تین شفٹوں میں کام کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہر پارٹی کیلئے رائے دہندوں کے پاس صرف 4 گھنٹے کا وقت ہے۔ چار گھنٹے گزرتے ہی وہ دوسری پارٹی کی مہم میں شریک ہوجاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر گاؤں میں انتخابی مہم کیلئے عوام کو جمع کرنے کی ذمہ داری چند افراد نے اپنے ذمہ لے لی ہے اور انتخابی مہم کیلئے سیاسی جماعتوں کو وقت کی پہلے سے بکنگ کرانی پڑ رہی ہے۔ صبح سے تین شفٹوں میں تین مختلف جماعتوں کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ہر شخص روزانہ کم از کم 2000 روپئے بآسانی کما رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کھانے اور شراب کا انتظام مفت میں ہورہا ہے۔ ہر گاؤں کے ذمہ دار کے پاس سیاسی جماعت کے قائدین اپنا وقت نوٹ کرا رہے ہیں اور بکنگ میں چار گھنٹے کے بعد کا وقت دوسری پارٹی کو الاٹ کیا جاتا ہے۔ حضور آباد شائد یہ پہلا چناؤ ہے جس میں مسائل کی جگہ دولت اور شراب نے لے لی ہے جس کا رائے دہندے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح سے شام تک ہر گاؤں میں لوگ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور کانگریس کی انتخابی مہم میں شریک ہوکر آمدنی کا کوٹہ مکمل کر رہے ہیں۔ صبح 10 بجے سے پہلی شفٹ کا آغازہوتا ہے اور چار گھنٹے گزرتے ہی یہ گروپ دوسری پارٹی کا پرچم تھام لیتا ہے۔ پہلی شفٹ کے اختتام کے انتظار میں دوسری پارٹی کے قائدین کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ آمدنی ٹی آر ایس پارٹی سے ہورہی ہے جبکہ بی جے پی دوسرے نمبر پر ہے۔ کانگریس نے ابھی سے مہم شروع کی ہے اور اس کی جانب سے دی جانے والی رقم دونوں پارٹیوں سے کم ہے۔ لہذا عوام کانگریس کو مہم کیلئے تیسری شفٹ الاٹ کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ دولت کی اس جنگ میں رائے دہندے ووٹ کا استعمال کس پارٹی کے حق میں کریں گے ۔ ووٹ دینے کے لئے ابھی سے تینوں پارٹیاں رائے دہندوں کو رقم کا لالچ دے رہی ہے۔ ر