حضور آباد میں مصروف وزراء اور قائدین سے چیف منسٹر کے سی آر ربط میں

   

راجندر کی سبقت سے متعلق سروے سے بے چینی، دلت خاندانوں کو منانے کیلئے قائدین کو ہدایت، دلت بندھو اسکیم اہم موضوع
حیدرآباد۔22 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) حضور آباد ضمنی چناؤ نے برسر اقتدار ٹی آر ایس کیلئے کرو یا مرو کی صورتحال پیدا کردی ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حیدرآباد سے انتخابی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد سے ابھی تک تین ضمنی چناؤ منعقد ہوئے جن میں سے دو پر ٹی آر ایس اور ا یک پر بی جے پی کو کامیابی ملی ۔ گزشتہ سات برسوں میں تلنگانہ میں یہ کسی اسمبلی نشست کا چوتھا ضمنی چناؤ ہے لیکن یہ چناؤ ٹی آر ایس سے زیادہ خود چیف منسٹر کے سی آر کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ حلقہ میں سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے حق میں عوام کی غیر معمولی تائید نے برسر اقتدار پارٹی کو اپنی ساری طاقت جھونکنے پر مجبور کردیا ہے ۔ کئی وزراء انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور ہر منڈل اور دیہات کیلئے عوامی نمائندوں کو انچارج کے طور پر مقرر کیا گیا ہے ۔ راجندر نے انتخابی مہم کے دوران رکن اسمبلی اور وزیر کی حیثیت سے عوامی خدمات کو رائے دہندوں کے درمیان پیش کرکے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ حضور آباد میں بی جے پی کا کوئی خاص وجود نہیں تھا لیکن راجندر کی بی جے پی میں شمولیت کے بعد حلقہ میں ٹی آر ایس کیلئے چیلنج کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ روزانہ مختلف اداروں اور انٹلیجنس کے ذریعہ انتخابی مہم اور امیدواروں کے موقف پر رپورٹ طلب کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتہ کے دوران چیف منسٹر کو پیش رپورٹس میں راجندر کی سبقت کو واضح کیا گیا جس کے بعد سے چیف منسٹر نے انتخابی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر روزانہ ریاستی وزراء ، عوامی نمائندوں کے علاوہ دیہاتوں میں سرگرم ٹی آر ایس قائدین سے فون پر ربط پیدا کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر بی جے پی سے نمٹنے پارٹی قائدین کو تجاویز اور مشورے دے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری روک دیئے جانے کا ٹی آر ایس پر منفی اثر پڑا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے رائے دہی کی تکمیل تک اسکیم پر عمل روکنے کی ہدایت دی جس کے بعد سے اسکیم کے استفادہ کنندگان میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے دلتوں کو بھروسہ دیا جارہا ہے کہ نتیجہ کے اعلان کے بعد اسکیم پر عمل کیا جائے گا لیکن بی جے پی نے رائے دہندوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی ہے کہ محض انتخابی کامیابی کیلئے اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے دلت خاندانوں سے شخصی طور پر ربط قائم کرنے کی وزراء کو ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں دلت خاندانوں سے فون پر بات چیت کریں گے اور اسکیم پر عمل آوری کا یقین دلائیں گے ۔ حضور آباد میں کانگریس کی انتخابی مہم میں شدت نے ٹی آر ایس حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے ، اگر کانگریس پارٹی زائد ووٹ حاصل کرتی ہے تو اس کا فائدہ ٹی آر ایس کو ہوسکتا ہے کیونکہ مخالف ٹی آر ایس ووٹ منقسم ہوسکتے ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کو امید ہے کہ 27 اکتوبر کو چیف منسٹر کے انتخابی دورہ کے بعد صورتحال تبدیل ہوجائے گی ۔ ر