کوشک ریڈی کو ایم ایل سی نشست دینے پر مقامی قائدین ناراض، ہریش راؤ کی مصالحتی کوشش
حیدرآباد۔6 ۔اگست (سیاست نیوز) حضور آباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کامیابی کیلئے برسر اقتدار ٹی آر ایس ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن قدم قدم پر پارٹی کو داخلی سطح پر ناراضگیوں کا سامنا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر فینانس ہریش راؤ کو حضور آباد انتخابی مہم کا انچارج مقرر کیا ہے ۔ ان کے ساتھ دو ریاستی وزراء جی کملاکر اور کے ایشور کو منسلک کیا گیا جو حلقہ میں قیام کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کے اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے سلسلہ میں مقامی ٹی آر ایس قائدین کو نظر انداز کرنے پر کیڈر میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور آباد میں کامیابی کیلئے پارٹی کارکنوں سے زیادہ کانگریس اور بی جے پی سے آنے والے قائدین کو اہمیت اور ترجیح دی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں کانگریس سے استعفیٰ دے کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے کوشک ریڈی کو ایم ایل سی کی نشست کا اعلان مقامی قائدین اور کارکنوں میں ناراضگی کا سبب بن چکا ہے ۔ شمولیت کے 10 دن میں چیف منسٹر نے کوشک ریڈی کو گورنر کوٹہ کے تحت مخلوعہ ایم ایل سی نشست پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ کوشک ریڈی گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر ایٹالہ راجندر کے خلاف مقابلہ کرچکے ہیں۔ مقامی قائدین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے حضور آباد کے ان قائدین کو نظر انداز کردیا جو 2001 ء سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے قائدین اور کارکنوں کے بجائے کانگریس سے آنے والے کوشک ریڈی کو ایم ایل سی کی نشست پر سوشل میڈیا میں ویڈیوز اور دیگر پوسٹ کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش راؤ نے مقامی طور پر ناراض قائدین سے بات چیت کی اور انہیں تیقن دیا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد سرکاری عہدوں پر تقررات میں شامل کیا جائے گا ۔ ایم ایل ایز زمرہ کی کونسل کی 6 نشستیں مخلوعہ ہیں جن پر الیکشن کے لئے نوٹفکیشن جلد جاری کیا جاسکتا ہے ۔ الیکشن کمیشن توقع ہے کہ حضور آباد کے علاوہ ایم ایل سی نشستوں کے لئے انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔ حضور آباد کے مقامی قائدین کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایم ایل سی کی نشست دی جائے تاکہ انتخابی مہم کے دوران کارکنوں کا اعتماد حاصل کیا جاسکے۔
