حضور آباد میں کانگریس کا مایوس کن مظاہرہ‘ ہائی کمان برہم

   

Ferty9 Clinic

دہلی میں کانگریس قائدین آپس میں الجھ پڑے ، کے سی وینوگوپال کا اظہار ناراضگی
حیدرآباد 13 نومبر ( سیاست نیوز ) کانگریس ہائی کمان نے حضور آباد ضمنی انتخاب میں کانگریس کے مایوس کن مظاہرہ پر تلنگانہ قائدین پر ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا ۔ دہلی اجلاس میں گرما گرم مباحث ہوئے ۔ تلنگانہ کانگریس قائدین نے شکست کیلئے ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا جس پر کل ہند کانگریس جنرل سکریٹری و انچارج تنظیمی امور کے سی وینو گوپال نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور پارٹی کے ناقص مظاہرہ پر تلنگانہ قائدین سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ 2018 میں کانگریس کو 62 ہزار ووٹ ملے تھے اور ضمنی انتخابات میں صرف 3 ہزار ووٹوں کے ساتھ ضمانت ضبط ہوئی اس کیلئے ذمہ دار کون ہیں ؟۔ مایوس کن مظاہرہ کا کیڈر میں غلط پیغام پہونچا ہے ۔ مقننہ پارٹی قائد ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ ایٹالہ راجندر کی کانگریس میں شمولیت کی چند قائدین نے مخالفت کرکے رکاوٹ پیدا کی ہے جس پر وینو گوپال نے کہا کہ سب سے پہلے آپ نے ( ملو بٹی وکرامارک ) نے مخالفت کی اور دوسرے قائدین پر الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ۔ پارٹی قائدین کو پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے پر زور دیا ۔ سابق ایم پی پونم پربھاکر نے کہا کہ کانگریس کے دو سابق صدور پردیش ، ڈی سرینواس اور کے کیشو راؤ نے خود راجیہ سبھا رکن بننے کانگریس کو نقصان پہونچایا جب کہ اتم کمار ریڈی نے اپنے رشتہ دار کو ایم ایل سی کی نشست کیلئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرائی ۔ پونم پربھاکر نے حضور نگر ، ناگر جنا ساگر ، دوباک اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں کانگریس کی شکست کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ پارٹی کو مشکلات کا اندیشہ ہے ۔ چند قائدین نے پونم پربھاکر کو روکنے کی کوشش کی جس پر پونم پربھاکر نے انہیں پارٹی سے معطل کردکھانے کا چیلنج کیا ۔ اجلاس میں تلنگانہ کانگریس انچارج مانکیم ٹیگور ‘بوس راجو ، صدر پی سی سی ریونت ریڈی ، محمد علی شبیر ، ہنمنت راؤ ، مدھو گوڑیشکی ، دامودھر راج نرسمہا و دوسروں نے شرکت کی ۔ ن