آئی ہرک کاتاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اور پروفیسر سید محمد حسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔30؍جون( پریس نوٹ) حضور رحمۃ للعلمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائرہ رحمت میں حیوانات بھی شامل ہیں۔ سیرت طیبہ میں یہ واقعہ ملتا ہے کہ ایک اونٹ رسول اللہؐ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور بلبلانے لگا۔ حضور انورؐ نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ ’’جانتے ہو اس اونٹ نے کیا کہا ہے؟ یہ اونٹ اپنے مالک سے میری پناہ مانگ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مالک برسوں سے اس سے سخت مشقت لے رہا تھا اور اب اس کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ جابر! اس کے مالک کے پاس جائو اور اسے بلا کر لائو‘‘۔اونٹ کا مالک حضور انورؐ کی بارگاہ میں لایا گیا ۔ رسول اللہؐ نے اونٹ کے مالک سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’یہ اونٹ کہتا ہے کہ اس نے برسوں سے تمہارے یہاں پرورش پائی، گرمی کے موسم میں تم اس پر بوجھ لاد کر گرم جگہوں پر لے جاتے تھے اور سردی کے موسم میں تم اس پر سامان لاد کر سرد جگہوں پر لے جاتے تھے ۔ اس اونٹ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مضبوط قسم کے اونٹ (کے بچے) عطا فرمائے۔ اب جب کہ یہ اپنی کمزوری کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو تم اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھانا چاہتے ہو؟‘‘۔ حضور انورؐ نے فرمایا کہ ’’اونٹ کے مالک کی طرف سے ایک نیک اور وفادار خادم کا صلہ یہ تو نہیں ہونا چاہئیے‘‘۔ رسول اللہؐ نے اس اونٹ کو اس کے مالک سے خرید لیا اور اونٹ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’اے اونٹ! اب تو جہاں چاہے چلا جا‘‘۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی قدیم میں ان حقائق کا اظہار کیا۔وہ اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1361‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے منور اور تابناک واقعات پر اہل علم حضرات اور سامعین کرام کی کثیر تعداد سے شرف تخاطب حاصل کر رہے تھے۔ بعدہٗ 11-30 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی مالاکنٹہ روڈ روبرو معظم جاہی مارکٹ میں منعقدہ دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسولؐ اللہ حضرت عوف بن مالک ؓؓ کے احوال شریف پر مبنی حقائق بیان کئے۔ قراء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔ صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا حمیدی نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں دعوت حق کی مرحلہ وار کامیابیوںپر دلپذیر حقائق بیان کئے ۔ مفتی سید شاہ محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل جامعہ نظامیہ نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری، ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا۔ پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے تصوف کے بنیادی اصولوں سے متعلق معلومات آفریں نکات پیش کئے بعدہٗ انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا ’1088‘ واں سلسلہ وار، پر مغز اور مدلل لکچر دیا۔ ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت حضرت عوف بن مالک ؓ کے احوال شریف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت عوفؓ بن مالک قبیلہ اشجع کے معزز، مقبول اور محبوب شخصیت تھے۔ اپنے قبیلہ کے معزز و معتبر نمائندہ کی حیثیت سے انھوں نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے قبیلہ کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ حضرت عوف بن مالکؓ اشجعی بڑی خوبیوں کے مالک اور معاصرمیں احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ عشق الٰہی اور محبت رسولؐ کے جلووں سے ان کی کتاب حیات منور تھی۔ عمر طویل پائی۔ 73ھ میں بمقام دمشق ان کی وفات کا واقعہ ہوا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں حضرت تاج العرفاءؒ کا عرض کردہ سلام پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1361‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میںجناب محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔