حضور ـآباد ضمنی چناؤ ریونت ریڈی کے لیے وقار کا مسئلہ

   

امیدوار کے انتخاب میں دشواریاں، اہم قائدین ٹی آر ایس اور بی جے پی میں شامل، گاندھی بھون میں آج اجلاس
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حضورآباد اسمبلی حلقہ کا ضمنی چناؤ کانگریس پارٹی بالخصوص نئے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہیں پہلے الیکشن کا سامنا ہے اور پارٹی کی طاقت میں اضافہ اور انتخابات میں بہتر مظاہرہ کے ذریعہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی صدارت ریونت ریڈی کو ایسے وقت دی گئی جب تلنگانہ میں پارٹی کا موقف کافی کمزور ہے۔ حالیہ عرصہ میں دوباک اور ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ جات کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں حلقوں میں ایک پر بی جے پی اور دوسرے پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ پارٹی کو ناگرجنا ساگر میں جانا ریڈی سے کافی امیدیں تھیں لیکن انہیں بھاری ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب مجوزہ تیسرے ضمنی چناؤ میں ریونت ریڈی کی مقبولیت اور صلاحیت دونوں کا امتحان رہے گا۔ ٹی آر ایس سے ایٹالہ راجندر کی بے جے پی میں شمولیت کے بعد حضورآباد کا الیکشن بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان دکھائی دے رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں کانگریس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کانگریس کی حضورآباد میں کمزوری کی ایک اور اہم وجہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے کوشک ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت ہے۔ ان کے علاوہ مقامی سطح کے کئی کانگریس قائدین ٹی آر ایس یا پھر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ دونوں پارٹیوں نے حلقہ میں انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ ریونت ریڈی کو حضور آباد میں پارٹی کا احیاء کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کو حضورآباد کا انچارج مقرر کیا ۔ دامودر راج نرسمہا نے حضور آباد کا دورہ کرتے ہوئے منڈل اور دیہات سطح کے قائدین اور کارکنوں سے ملاقات کی اور انہیں متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کو دیہی سطح سے سرگرم کرنے کیلئے دامودر راج نرسمہا کی زیر قیادت پارٹی کے سینئر قائدین متحرک ہوچکے ہیں۔ قائدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امیدوار کے انتخاب میں دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ پردیش کانگریس کی قیادت میں تبدیلی کے ماحول کے سبب ریاستی قیادت نے حضورآباد پر توجہ نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے حضورآباد کی صورتحال پر چہارشنبہ کو اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ کریم نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے عوامی نمائندوں اور سینئر قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ اجلاس میں حلقہ میں پارٹی کے موقف اور امکانی امیدواروں کا جائزہ لیا جائے گا۔ حلقہ میں دلت رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس اور بی جے پی نے پدیاترا اور دوروں کا آغاز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس کیلئے دلت بندھو اسکیم فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جبکہ بی جے پی نے بھی کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین کو حلقہ میں متحرک کردیا ہے۔ کانگریس کو انتخابی میدان میں اُتارنے کیلئے دلت یا کسی اور کمزور طبقہ کے مضبوط امیدوار کی تلاش ہے۔ حضورآباد کا ضمنی چناؤ اگرچہ کانگریس کیلئے محض رسمی مقابلہ ثابت ہوسکتا ہے لیکن ریونت ریڈی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلے الیکشن میں اپنی صلاحیت اور مقبولیت ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاسکتے ہیں۔ 1983 سے حضورآباد اسمبلی حلقہ میں 11 الیکشن ہوئے لیکن کانگریس کو ایک مرتبہ بھی کامیابی نہیں ملی۔ 2009 الیکشن میں کانگریس امیدوار کو 14000 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ دیگر انتخابات میں کانگریس اور کامیاب امیدوار کے درمیان 20 ہزار سے زائد ووٹوں کا فرق رہا۔ 2009 کے بعد ہوئے 4 انتخابات میں ٹی آر ایس کے ایٹالہ راجندر نے مسلسل کامیابی حاصل کی اور 2018 الیکشن میں انہیں 43 ہزار ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ کانگریس امیدوار کوشک ریڈی کو 60 ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے اور اگر وہ کانگریس میں برقرار رہتے تو شاید پارٹی کا مظاہرہ بہتر ہوتا۔