حضور نگرمیں سی پی آئی کا جھکاؤ ٹی آر ایس کی طرف،سیاست میں مستقل دوست دشمن نہیں: نارائنا

   

سی پی آئی تنظیم کو حکومت کا ایوارڈ

حیدرآباد۔یکم اکتوبر ( سیاست نیوز) حضور نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں سی پی آئی توقع ہے کہ ٹی آر ایس کی تائید کرے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے ریاستی قائدین کی اکثریت میں ٹی آر ایس کی تائید کے حق میں اپنی رائے دی ہے ۔ مخدوم بھون میں آج سی پی آئی کی ریاستی عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حضور نگر کی انتخابی صورتحال اور امیدوار کی تائید کے مسئلہ پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ سیاست میں ایک دوسرے پر تنقیدیں معمول کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نگر میں سی پی آئی کو 7000 ووٹ موجود ہیں ۔ تاہم بعض وجوہات کے سبب مقابلہ سے گریز کیا گیا ۔ واضح رہے کہ سی پی آئی کی تائید کے لئے ٹی آر ایس اور کانگریس کے قائدین نے مخدوم بھون پہنچ کر سی پی آئی قائدین سے ملاقات کی تھی ۔ اسی دوران ٹی آر ایس کو سی پی آئی کی تائید کے امکانات اس وقت روشن ہوگئے جب انٹرنیشنل ایلڈرس ڈے کے موقع پر تلنگانہ حکومت نے سی پی آئی کے ادارہ چندرا راجیشور راؤ فاؤنڈیشن کو ایوارڈ سے نواوزا۔ رویندر بھارتی میں منعقدہ تقریب میں وزیر بہبو کے ایشور نے فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر کے نارائنا اور خازن وی چنا کیشو راؤ کو ایوارڈ پیش کیا ۔ سینئر سٹیزنس کے لئے سی آر فاؤنڈیشن کو بہتر خدمات پر یہ ایوارڈ پیش کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر نارائنا نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں ایلڈرس ہوم قائم کیا جائے ۔ انہوں نے ایوارڈ کیلئے حکومت سے اظہار تشکر کیا۔ پرنسپل سکریٹری جگدیشور ، سٹی پولیس کمشنر انجنی کمار ، ایڈیشنل کمشنر شیکھا گوئل ، رکن اسبملی چندر موہن اور ڈائرکٹر سینئر سٹیزنس ویلفیر ڈپارٹمنٹ شریمتی شیلجا اور دوسر