حضور نگر ضمنی چناؤ کے نتیجہ پر تجسس برقرار

   

ٹی آر ایس اور کانگریس دونوں پرامید،اگزٹ پول کے نتائج ٹی آر ایس کے حق میں

حیدرآباد۔22 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) حضور نگر ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے لئے 24 اکتوبر کو رائے شماری ہوگی۔ تاہم برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی اپنے امیدواروںکی کامیابی کے بارے میں متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کیلئے حضور نگر کی نشست وقار کا مسئلہ بن چکی ہے اور دونوں جانب سے کامیابی کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس ریاست میں اپنی کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھنا چاہتی ہے جبکہ کانگریس پارٹی حضور نگر کی نشست پر دوبارہ قبضہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں پارٹی کے احیاء کے بارے میں فکرمند ہیں۔ یہ نشست صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے استعفیٰ کے باعث خالی ہوئی ہے۔ لوک سبھا کیلئے انتخاب کے بعد اتم کمار ریڈی نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ ان کی شریک حیات پدماوتی ریڈی کو کانگریس نے ٹکٹ دیا جنہیں اسمبلی انتخابات میں کوداڑ اسمبلی حلقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انحراف سے اسمبلی میں پارٹی کی عددی طاقت گھٹ کر 6 ہوچکی ہے۔ ایسے میں کانگریس اس نشست کو برقرار رکھتے ہوئے عددی طاقت میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے انتخابی مہم کی کمان سنبھالی اور کانگریس کے بیشتر سینئر قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا ۔ مہم کے آخری دو دن ملکاجگیری کے رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کے روڈ شو سے کانگریس کارکنوں کے حوصلے بلند ہوگئے۔ تاہم روڈ شو کا انتخابی نتائج پر کس حد تک اثر پڑے گا ، اس کا اندازہ رائے شماری کے ذریعہ ہوگا۔ ٹی آر ایس نے ریاستی وزیر جگدیش ریڈی اور قانون ساز کونسل میں چیف وہپ پی راجیشور ریڈی کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی تھی۔ ان کے علاوہ کئی وزراء نے انتخابی مہم چلائی جن میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ، کے ٹی راما راؤ بھی شامل ہیں۔ چیف منسٹر 17 اکتوبر کو حضور نگر کا دورہ کرنے والے تھے لیکن موسم کی خرابی کے نتیجہ میں ان کا ہیلی کاپٹر اڑان بھرنے سے قاصر رہا ، جس کے سبب دورہ کو منسوخ کردیا گیا ۔ رائے دہی کے اختتام کے بعد دونوں پارٹیوں نے اگرچہ کامیابی کے دعوے کئے ہیں لیکن جو اگزٹ پول منظرعام پر آئے ، ان میں ٹی آر ایس کی کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ۔ تین مختلف اگزٹ پول ٹی آر ایس کے حق میں آئے ہیں۔ مشن چانکیا کے اگزٹ پول کے مطابق ٹی آر ایس کو 53 فیصد اور کانگریس کو 41 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں۔ تلگو دیشم کو 2.1 اور بی جے پی کو 1.1 فیصد ووٹ کی پیش قیاسی کی گئی ۔ ایک اور سروے میں ٹی آر ایس کو 50.48 اور کانگریس کو 39.95 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ۔ تیسرا سروے جو حضور نگر کے 7 منڈلوں کی رائے دہی پر محیط ہے، اس نے ٹی آر ایس کو 53.73 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی جبکہ کانگریس کو 41.04 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں ۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد ٹی آر ایس قائدین میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ کے ٹی آر نے ٹوئیٹر پر حضور نگر کے قائدین اور کارکنوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ قائدین سے موصولہ رپورٹس کے مطابق مجھے یقین ہے کہ ٹی آر ایس امیدوار سیدی ریڈی قابل لحاظ اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے ۔ حضور نگر میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 2 لاکھ 20 ہزار 108 ہے اور 75 فیصد رائے دہی ہوئی ہے۔