ہم اپنی بہن کو کامیاب کریں گے،تلنگانہ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ حضور نگر کے نتیجہ پر منحصر:ریونت ریڈی
حیدرآباد۔/19 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمان اے ریونت ریڈی نے حضور نگر میں انتخابی مہم کے آخری دن روڈ شو کے ذریعہ کانگریس کارکنوں کے جوش و خروش میں اضافہ کردیا۔ ریونت ریڈی کل سے حضور نگر کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور انہوں نے دو دن کے روڈ شو کا مصروف ترین شیڈول رکھا ہے۔ ان کے پروگراموں میں ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت سے کانگریس قائدین اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ مہم کے آخری دن آج ریونت ریڈی نے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور امیدوار پدماوتی ریڈی کے ہمراہ روڈ شو کیا اور جگہ جگہ عوام سے خطاب کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ نظام آباد میں کے ٹی آر کی بہن کو شکست ہوگئی لیکن ہم حضور نگر میں اپنی بہن کو کامیاب کریں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی ہڑتال کے نتیجہ میں ریاست میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اس میں حضور نگر کا انتخاب اہمیت اختیار کرچکا ہے اور ضمنی چناؤ کا نتیجہ ریاست کی سیاست میں فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آر ٹی سی ہڑتال اور آج تلنگانہ بند کیلئے کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا وعدہ بھلے ہی شامل نہ ہو لیکن آر ٹی سی کو جزوی طور پر خانگیانے کی بات بھی منشور میں شامل نہیں ہے پھر چیف منسٹر کس طرح آر ٹی سی کو خانگیانے کی سمت اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزراء اور چیف منسٹر اس مسئلہ پر وضاحت کریں۔ ریونت ریڈی نے آر ٹی سی کو خانگیانے پر وزراء کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران آر ٹی سی ملازمین سے ہمدردی کرنے والے وزراء بھی آج خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر لال بسوں سے 27 فیصد ایندھن ٹیکس وصول کررہے ہیں جبکہ ایر بس ( فلائیٹ ) میں صرف ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو آخر کب تک دھوکہ دے گی۔ کے سی آر آر ٹی سی کے 85000 کروڑ مالیتی اثاثہ جات کو اپنے تابعداروں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور کئی اضلاع میں اس سلسلہ میں کارروائی شروع کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کو از خود برطرف کرنے کا حکومت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ ایسے وزراء جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں کبھی حصہ نہیں لیا وہ آر ٹی سی ملازمین کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کررہے ہیں۔ اس طرح کی بیان بازی کے سبب کئی کارکنوں نے خودکشی کرلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عدلیہ سے کھلواڑ کرے گی تو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے مذاکرات کی ہدایت کے باوجود کے سی آر ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی آمرانہ اور ڈکٹیٹر شپ کے خلاف سبق سکھانے کیلئے ٹی آر ایس کو شکست سے دوچار کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضور نگر کا ضمنی چناؤ مستقبل کے تلنگانہ کا فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں کے ٹی آر اپنی بہن کو کامیاب کرنے میں ناکام ہوگئے لیکن میں حضور آباد میں اپنی بہن کو ضرور کامیاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں داخلی جمہوریت زیادہ ہے۔ مسائل پر اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن فیصلوں میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراب کی فروخت میں بھاری اضافہ ہوا اور ملک میں تلنگانہ سرفہرست ہے۔ عوام پر 2.5 لاکھ کروڑ کے قرض کا بوجھ عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاستی وزیر جگدیش ریڈی کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ کئی ریاستی وزراء حضور نگر کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں لیکن نتیجہ کانگریس کے حق میں آئے گا۔