وزیر داخلہ محمود علی کی وضاحت، روہنگیائی افراد کو حیدرآباد میں پناہ دینے کی تردید
حیدرآباد۔/28 ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے حضور نگر میں سرپنچوں کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کی اطلاعات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر کسی کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد محمود علی نے کہا کہ کانگریس پارٹی الزام عائد کررہی ہے کہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کیلئے پہنچنے والے سرپنچوں کو گرفتار کیا گیا۔ محمود علی نے کہا کہ انہیں اس طرح کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اگر پولیس عہدیدار کوئی غلطی کرتے ہیں تو ان کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شمس آباد فارم ہاوز میں اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ روہنگیائی شہریوں کو پناہ دینے کے مسئلہ پر انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے روہنگیائی شہریوں کو پناہ نہیں دی ہے اور پناہ دینے سے متعلق ان پر عائد کئے جارہے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی حضور نگر کے انتخابات کے سلسلہ میں بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے۔ حضور نگر میں کسی پر بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ امن و ضبط کے معاملہ میں تلنگانہ ملک کی نمبر ون ریاست ہے۔ اظہر الدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے پاس اس طرح کی اطلاعات نہیں ہیں۔ ویسے بھی پارٹی میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے پولیس ریکروٹمنٹ میں بے قاعدگیوں کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ مکمل شفافیت کے ساتھ تقررات کئے گئے۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پولیس تقررات کی شخصی طور پر نگرانی کی ہے۔ بے قاعدگیوں سے متعلق اگر کوئی ثبوت پیش کئے جائیں تو حکومت تحقیقات کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس ملک کی نمبر ون پولیس ہے اور امن و ضبط کی برقراری میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے پولیس نے امن و ضبط کی برقراری کے علاوہ جرائم پر قابو پانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پُرسکون زندگی کی فراہمی حکومت کا اولین مقصد ہے۔