تلگودیشم اور بائیں بازوکے سبب کانگریس کے امکانات متاثر، حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی پر کانگریس پُرامید
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر،( سیاست نیوز) حضور نگر اسمبلی حلقہ کا ضمنی چناؤ کانگریس اور ٹی آر ایس کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے استعفی سے مخلوعہ اس نشست پر دوبارہ کانگریس قبضہ کرنے کے بارے میں پُرامید ہے جبکہ برسر اقتدار پارٹی نے اپنی تمام تر طاقت جھونک دی ہے تاکہ کانگریس کو کامیابی سے روکا جاسکے۔ حضور نگر سے اتم کمار ریڈی مسلسل تین مرتبہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور 2018 اسمبلی انتخابات میں انہوں نے ٹی آر ایس کے امیدوار سیدی ریڈی کو 8 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی تھی۔ بعد میں لوک سبھا انتخابات میں اتم کمار ریڈی نلگنڈہ حلقہ سے منتخب ہوئے جس کے بعد انہوں نے حضور نگر کی اسمبلی نشست سے استعفی دے دیا۔ کانگریس نے اتم کمار ریڈی کی شریک حیات پدماوتی ریڈی کو امیدوار بنایا ہے جو 2014 میں کوداڑ اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئی تھیں اور 2018 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو حضور نگر میں 18 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی جس کی بنیاد پر کانگریس قائدین کو یقین ہے کہ اس کے امیدوار کو ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل ہوگی۔ 2018 میں اپوزیشن جماعتوں نے مہا کوٹمی کے تحت مقابلہ کیا تھا لیکن ضمنی چناؤ میں اپوزیشن منتشر دکھائی دے رہا ہے جو کانگریس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ تلگودیشم نے اپنا امیدوار میدان میں اُتارا ہے جبکہ سی پی آئی نے ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا۔ سی پی ایم نے اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا تاہم پرچہ نامزدگی مسترد ہوگیا جس کے بعد پارٹی نے تلنگانہ پرجا پارٹی امیدوار کی تائید کی ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام کی تلنگانہ جنا سمیتی نے کانگریس کی تائید کا اعلان کیا جبکہ وائی ایس آر کانگریس نے ٹی آر ایس کی تائید کی۔ اس طرح حضور نگر میں مخالف حکومت ووٹ منقسم ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٹی آر ایس جس نے کامیابی کیلئے ساری طاقت جھونک دی ہے اسے اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم پر بھروسہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس نے اپنے امیدوار کے حق میں مہم چلانے سے زیادہ مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے جس کیلئے تلگودیشم، سی پی آئی اور سی پی ایم کیڈر کی درپردہ مدد کی جارہی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ تقسیم کرسکیں۔ حکومت کے بیشتر وزراء کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو انتخابی مہم میں جھونک دیا گیا۔ قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ چیف وہپ پی راجیشور ریڈی کو انتخابی مہم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ کے ٹی راما راؤ مجموعی طور پر انتخابی مہم کی نگرانی کررہے ہیں۔ حلقہ میں سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کی شکایتوں پر الیکشن کمیشن نے سوریا پیٹ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے تبادلہ کے احکامات جاری کئے۔ ٹی آر ایس کا مکمل انحصار ووٹوں کی تقسیم پر ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے غیر متوقع طور پر کانگریس کے خلاف موقف اختیار کیا جبکہ تلگودیشم نے حضور نگر میں مضبوط کیڈر کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا امیدوار میدان میں اُتارا۔ کانگریس کو یقین ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کے سبب عوام کانگریس کے حق میں ووٹ دیں گے اور مخالف حکومت ووٹ تقسیم نہیں ہوں گے۔حضور نگر میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 2 لاکھ20 ہزار 108 ہے جس میں پسماندہ طبقات کے رائے دہندے 83663 یعنی 38.01 فیصد ہیں جبکہ اعلیٰ طبقات 53662 یعنی 24.38 فیصد ہیں۔ ایس سی17.14 فیصد، مادیگا 9.76 ، مالا 7.38 ، ایس ٹی 12.83 اور مسلمان 2.79 فیصد ہیں۔